قومی خبریں

نیٹ متاثرین کے اہل خانہ سے راہل گاندھی کی ملاقات، کہا- ’ایماندار طلبہ کو بدعنوان نظام کی سزا نہیں ملنی چاہیے‘

راہل گاندھی نے تمل ناڈو میں نیٹ پیپر لیک اور دوبارہ امتحان کے بعد جان گنوانے والے 3 طلبہ کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوان نظام کی سزا ایماندار طلبہ کو نہیں ملنی چاہیے

<div class="paragraphs"><p>تصویر ویڈیو گریب</p></div>

تصویر ویڈیو گریب

 

چنئی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے تمل ناڈو میں نیٹ پیپر لیک اور اس کے بعد دوبارہ امتحان کے باعث جان گنوانے والے 3 میڈیکل امیدواروں کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بدعنوان نظام کی سزا ایماندار اور محنتی طلبہ کو نہیں ملنی چاہیے اور ملک کو ایسا تعلیمی نظام درکار ہے جہاں محنت کی قدر ہو اور امتحانات شفاف انداز میں منعقد ہوں۔

کانگریس کی جانب سے جاری ویڈیو میں راہل گاندھی نے ویتری آنندن، روشنی اور گوپیکا کے اہل خانہ سے تفصیلی گفتگو کی اور ان کے دکھ درد کو سنا۔

ویتری آنندن کے اہل خانہ نے بتایا کہ وہ گزشتہ تین برس سے نیٹ امتحان کی تیاری کر رہے تھے، جبکہ ڈاکٹر بننا ان کا بچپن کا خواب تھا۔ ان کے مطابق امتحان دینے کے بعد وہ بہت خوش تھے اور انہیں یقین تھا کہ اس مرتبہ کامیابی حاصل کر لیں گے، لیکن اگلے ہی روز پیپر لیک کی خبر اور امتحان منسوخ ہونے کے اعلان نے انہیں شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا، جس کے بعد انہوں نے خودکشی کر لی۔

گفتگو کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے اس نوجوان کا مستقبل چرا لیا ہو۔ اہل خانہ نے بتایا کہ دوبارہ امتحان کے اعلان نے ان پر شدید نفسیاتی دباؤ ڈالا۔

ویٹری آنندن کے والدین نے بتایا کہ بیٹے کی کوچنگ اور تعلیم پر 3 برس کے دوران تقریباً 25 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ ان کے مطابق والد نے برسوں کی جمع پونجی اپنے اکلوتے بیٹے کو ڈاکٹر بنانے کے خواب پر لگا دی اور اس مقصد کے لیے گھر تک نہیں خریدا۔

روشنی کے اہل خانہ نے بتایا کہ وہ بھی تیسری مرتبہ نیٹ امتحان میں شریک ہوئی تھیں۔ وہ سوشل میڈیا سے دور رہتی تھیں، اپنی روزمرہ زندگی کا مکمل شیڈول بنا رکھا تھا اور دن کا بیشتر وقت پڑھائی میں صرف کرتی تھیں۔ اہل خانہ کے مطابق امتحان ختم ہونے کے بعد وہ مطمئن تھیں اور انہیں یقین تھا کہ اس بار کامیابی مل جائے گی، مگر دوبارہ امتحان کے اعلان نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

خاندان کے مطابق روشنی نے مستقبل کے کالج، تعلیمی اخراجات اور قرض تک کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، لیکن اچانک دوبارہ امتحان کی خبر ان کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہوئی۔ گوپیکا کے اہل خانہ نے بتایا کہ انہوں نے بھی دو برس تک کوچنگ حاصل کی اور پوری محنت کے ساتھ امتحان دیا تھا۔ ان کے والد ایک شوگر مل میں عارضی ملازم ہیں۔ خاندان کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی کا سب سے بڑا سوال یہی تھا کہ اگر پیپر راجستھان میں لیک ہوا تھا تو تمل ناڈو کے طلبہ کو دوبارہ امتحان کیوں دینا پڑا۔

ملاقات کے بعد راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ہر متاثرہ خاندان ایک ہی سوال کر رہا ہے کہ ایک بے ایمان نظام کی قیمت ایماندار اور محنتی طلبہ کیوں ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک لیک شدہ پرچہ، امتحان کی منسوخی اور دوبارہ امتحان نے نوجوان ذہنوں پر ناقابل برداشت دباؤ ڈال دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہر اعداد و شمار کے پیچھے ایک طالب علم کا خواب اور ایک ایسا خاندان ہے جو ناقابل تلافی نقصان کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جدوجہد ایسے تعلیمی نظام کے لیے ہے جہاں محنت کا احترام ہو، امتحانات شفاف ہوں اور اداروں کی ناکامی کی وجہ سے کسی طالب علم کی زندگی تباہ نہ ہو۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ان متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے بعد ان کا یقین مزید مضبوط ہو گیا ہے کہ طلبہ قصوروار نہیں ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سچائی سامنے لائے، متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرے اور اپنی ذمہ داری قبول کرے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔