قومی خبریں

جسٹس لویا معاملہ: راہل کی صدر جمہوریہ سے ملاقات، جانچ ایس آئی ٹی سے کرانے کا مطالبہ

کانگریس صدر کی قیادت میں 15 پارٹیوں کے 114 ممبران پارلیمنٹ نے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات کے دوران جسٹس لویا معاملے پر کوئی مناسب قدم اٹھانے کی گزارش کی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا کانگریس سربراہ راہل گاندھی صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے

جسٹس لویا کی موت سے متعلق آج اپوزیشن کے کئی لیڈران نے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد کانگریس کے قومی صدر راہل گاندھی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے کئی ممبران پارلیمنٹ جسٹس لویا معاملے کی جانچ شفافیت کے ساتھ کرانا چاہتے ہیں کیونکہ اب تک جو سوالات کھڑے ہوئے ہیں، اس کے بعد کئی طرح کے اندیشے بھی پیدا ہو گئے ہیں۔

صدر جمہوریہ سے ملاقات کے لیے 15 پارٹیوں کے 114 ممبران پارلیمنٹ پہنچے تھے جس کے بعد کانگریس سربراہ نے اس میٹنگ کے مقصد سے میڈیا کو روشناس کراتے ہوئے کہا کہ ’’آج ہم جسٹس لویا کی موت کے معاملے میں صدر محترم سے ملے تھے۔ انھوں نے ہمیشہ بھروسہ دلایا ہے کہ وہ اس معاملے کو ضرور دیکھیں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ اس معاملے کی جانچ ایس آئی ٹی سے کرائی جائے کیونکہ ایک جج کی مشتبہ حالت میں موت ہوئی ہے اور اس کی وجہ سامنے آنی ہی چاہیے۔‘‘ راہل گاندھی نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جسٹس لویا کے اہل خانہ کے اطمینان کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ جانچ مناسب طریقے سے ہو۔

قابل ذکر ہے کہ صرف جج لویا کی موت ہی مشتبہ نہیں ہے بلکہ دو مزید اموات بھی حیرت انگیز طریقے سے ہوئی ہیں جن کا تعلق کسی نہ کسی طرح جسٹس لویا سے رہا ہے۔ عدالت میں جسٹس لویا معاملے پر سماعت ہو رہی ہے اور گزشتہ 5 فروری کو اس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں سینئر وکیلوں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی تھی۔ اس دوران جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے ایڈووکیٹ دشینت دَوے سے کہا تھا کہ ’’اس عدالت میں ہمیں بحث کو مچھلی بازار کی سطح پر نہیں لانا چاہیے۔ جب کوئی جج کچھ بول رہا ہو تو آپ اسے چیخ کر چپ نہیں کرا سکتے۔ مسٹر دَوے... آپ اس وقت بولیے گا جب آپ کی باری آئے گی۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined