
راہل گاندھی / فائل تصویر
نئی دہلی: کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کیرالہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی قیادت والے یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کی واضح اور فیصلہ کن جیت پر کیرالہ کے عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کی گئی ایک پوسٹ میں راہل گاندھی نے لکھا، ’’کیرالہ کے میرے بھائیوں اور بہنوں کا شکریہ جنہوں نے واقعی فیصلہ کن مینڈیٹ دیا۔ یو ڈی ایف کے ہر لیڈر اور ورکر کو مبارکباد، سخت محنت اور بہترین مہم کے لیے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا، کیرالہ کے پاس ٹیلنٹ (قابلیت) ہے، پوٹینشل (امکانات) ہے اور اب کیرالہ کے پاس یو ڈی ایف کی ایک ایسی حکومت بھی ہے جو دونوں کو استعمال کرنے کی بصیرت رکھتی ہے۔ میں جلد ہی اپنی کیرالہ فیملی سے ملنے کا منتظر ہوں۔‘‘
Published: undefined
قبل ازیں، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپگڑھی نے راہل گاندھی کی حکمت عملی کو جیت کا بڑا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ یو ڈی ایف کی یکجہتی اور ملکارجن کھڑگے کی قیادت کی جیت ہے۔ انہوں نے کہا، ”ہم کیرالہ میں سنچری لگانے جا رہے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ کی تعداد میں اضافہ ہونے سے پارٹی مزید مضبوط ہوگی۔
کانگریس لیڈر اور تلنگانہ فشرمین کوآپریٹو فیڈریشن کے صدر میٹو سائی کمار نے اس جیت کو کانگریس کارکنان کی محنت کی فتح قرار دیا۔ انہوں نے بی جے پی پر آئینی اداروں کے غلط استعمال کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جنوبی ہند کی ریاستوں میں بی جے پی اپنی معنویت کھو چکی ہے۔
Published: undefined
آل انڈیا مہلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے بھی کیرالہ پر توجہ مرکوز رکھنے کا اعلان کیا اور کہا کہ پانچ ریاستوں کے انتخابات کے نتائج سے واضح ہے کہ کیرالہ میں کانگریس اتحاد ہی حکومت بنائے گا۔
کیرالہ کانگریس کے صدر سنی جوزف نے عوام، پارٹی ورکرز اور اے آئی سی سی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ’شاندار جیت‘ قرار دیا۔ انہوں نے دسمبر کے لوکل باڈی انتخابات میں یو ڈی ایف کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تسلسل عوام کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
Published: undefined
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق راہل گاندھی کی حالیہ فعال مہم اور یو ڈی ایف کی اندرونی یکجہتی نے بی جے پی اور ایل ڈی ایف دونوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ راہل گاندھی نے کیرالہ کو ’ٹیلنٹ اور پوٹینشل‘ والا خطہ قرار دے کر مستقبل میں ترقیاتی ایجنڈے پر کام کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔
یہ جیت کانگریس کے لیے 2026 کے بعد کی سیاست میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے، جہاں پارٹی جنوبی اور شمالی ہند دونوں میں اپنی رسائی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: سوشل میڈیا