
راہل گاندھی / ویڈیو گریب
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ مودی حکومت اقتدار کے غرور میں اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اپنے حقوق، منصفانہ امتحانات اور محفوظ مستقبل کا مطالبہ کرنے والے طلبا کو ہی وزیر تعلیم ’دہشت گرد‘ قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے دھرمیندر پردھان سے ملک کے کروڑوں نوجوانوں سے فوری معافی مانگنے اور اپنی ناکامیوں کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔
Published: undefined
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں راہل گاندھی نے کہا، ’’ذرا سوچیے، جس کی ناکامی کی وجہ سے اتنے پیپر لیک ہوئے، جس کے دور میں 20 بچوں نے اپنی جان دے دی، جس نے کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیل دیا، وہی آج متاثرہ طلبا اور ان کی آواز اٹھانے والوں کو ’دہشت گرد‘ بتا رہا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ کوئی نیا طرز عمل نہیں بلکہ حکومت پہلے بھی اختلافی آوازوں کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ ان کے مطابق کسانوں کو پہلے ’آندولن جیوی‘ اور ’پرجیوی‘ کہا گیا، سوال پوچھنے والوں کو ’ملک دشمن‘ قرار دیا گیا اور اب نوجوانوں کو ’دہشت گرد‘ کہا جا رہا ہے۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے کہا لگایا کہ جو بھی حکومت سے سوال پوچھتا ہے، اسے ملک دشمن ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہی موجودہ حکومت کی پوری سیاست بن چکی ہے۔ انہوں نے دھرمیندر پردھان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’آپ ملک کے کروڑوں نوجوانوں سے فوراً معافی مانگیے اور اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیجیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ان پر جتنے چاہیں سیاسی حملے کیے جائیں، وہ نوجوانوں کے مسائل اٹھانا بند نہیں کریں گے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کوٹا میں بھی انہوں نے کہا تھا اور آج پھر دہرا رہے ہیں کہ موجودہ تعلیمی نظام صرف ’وصولی کا ایک نظام‘ بن کر رہ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس صورتحال کو اسی طرح برقرار نہیں رہنے دیں گے اور ہر بچے کو کم خرچ، معیاری تعلیم اور منصفانہ امتحانی نظام دلانے کی آواز مسلسل بلند کرتے رہیں گے۔
Published: undefined
اس سے قبل کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی اسی معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ملک میں متعدد پیپر لیک واقعات نے کروڑوں طلبا کا مستقبل متاثر کیا، لیکن وزیر تعلیم اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ’چھاتروں کی گونج‘ کو ’دہشت گرد‘ قرار دے رہے ہیں۔ کھڑگے نے کہا کہ حکومت کی روایت بن گئی ہے کہ جو بھی اس سے سوال کرتا ہے، اسے ملک دشمن یا کسی نہ کسی توہین آمیز لقب سے نواز دیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ نیٹ پیپر لیک اور دیگر امتحانی بے ضابطگیوں کو لے کر اپوزیشن حکومت پر لگاتار حملہ کر رہی ہے۔ کانگریس کا مؤقف ہے کہ پیپر لیک کے واقعات اور امتحانی نظام کی خامیوں نے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جبکہ حکومت امتحانی نظام میں اصلاحات اور شفافیت کے دعوے کر رہی ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined