قومی خبریں

یوم اساتذہ پر راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے نے دی مبارکباد، ڈاکٹر ایس رادھا کرشنن کو پیش کیا خراج عقیدت

راہل نے کہا کہ ’’آج ہندوستان کا تعلیمی نظام ہمارے سامنے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ ہمیں مل کر ایک ایسا نظام تیار کرنا ہے، جہاں ہر طالب علم کو یکساں مواقع، معیاری تعلیم اور ایک روشن مستقبل ملے‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ&nbsp;@RahulGandhi</p></div>

تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ @RahulGandhi

 

یوم اساتذہ کے موقع پر کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ملک کے تمام اساتذہ کو مبارکباد پیش کی اور سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کو ان کی یوم پیدائش پر یاد کیا۔ ملکارجن کھڑگے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھتے ہیں کہ ’’اساتذہ ذہنوں کو جلا بخشتے ہیں، اقدار کی آبیاری کرتے ہیں اور ہماری قوم کے مستقبل کی بنیادیں مضبوط کرتے ہیں۔ یوم اساتذہ کے موقع پر ہم ہر اس استاذ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، جن کا علم، صبر اور لگن نسلوں کو تحریک دیتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ ہم ہندوستان کے سابق صدر ڈاکٹر ایس رادھا کرشنن کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، جو ایک ممتاز فلسفی، استاذ اور مدبر تھے، جن کی حکمت آج بھی لازوال اور ہمیشہ تحریک دینے والی ہے۔‘‘

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ہندوستان کے سابق صدر ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کے یوم پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ قومی یوم اساتذہ کے موقع پر تمام اساتذہ کرام کو دلی مبارکباد۔ آپ اپنے علم، خدمت اور مخلصانہ لگن سے نہ صرف طلبہ کا مستقبل سنوارتے ہیں بلکہ ملک کی آنے والی نسلوں کی صحیح رہنمائی بھی کرتے ہیں، آپ کی یہ خدمات انمول ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’آج ہندوستان کا تعلیمی نظام ہمارے سامنے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ ہمیں مل کر ایک ایسا نظام تیار کرنا ہے، جہاں ہر طالب علم کو یکساں مواقع، معیاری تعلیم اور ایک روشن مستقبل ملے۔‘‘

واضح رہے کہ ڈاکٹر رادھا کرشنن کا تعلیم کے شعبے میں بہت بڑا تعاون رہا ہے۔ 1948 میں ان کی صدارت میں ’یونیورسٹی ایجوکیشن کمیشن‘ تشکیل دیا گیا تھا، جس نے آزاد ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کا خاکہ تیار کیا اور ’یونیورسٹی گرانٹس کمیشن‘ (یو جی سی) کے قیام کی مضبوط سفارش کی تھی۔ 1952 میں وہ ہندوستان کے پہلے نائب صدر بنے اور 1962 میں ملک کے دوسرے صدر بنے، اس کے بعد بھی ان کی زندگی انتہائی سادہ رہی۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ راجیہ سبھا کے چیئرمین تھے تو ایوان میں شدید بحث ہونے پر وہ اچانک سنسکرت کے اشلوک یا بائبل کی آیات پڑھنے لگتے تھے، جس سے کشیدہ ماحول فوراً پرسکون ہو جاتا تھا۔

قابل ذکرہے کہ 1962 میں جب ڈاکٹر رادھا کرشنن نے صدر کا عہدہ سنبھالا تو ان کے کچھ سابق طلبہ اور دوستوں نے 5 ستمبر کو ان کی سالگرہ بڑے پیمانے پر منانے کی اجازت مانگی۔ اس پر انہوں نے بڑی انکساری سے جواب دیا، جو ان کے عظیم کردار کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’میری سالگرہ منانے کے بجائے، اگر 5 ستمبر کو ’یوم اساتذہ‘ کے طور پر منایا جائے تو یہ میرے لیے فخر کی بات ہوگی۔‘‘ تب سے ہر سال 5 ستمبر کو ملک بھر میں یوم اساتذہ منایا جاتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔