
ویڈیو گریب
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ایوان کی کارروائی کے دوران حکومت اور پارلیمانی طریقہ کار پر سخت اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو اپنی بات رکھنے کا مناسب موقع نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے کہا لگایا کہ جب بھی وہ اہم سوالات اٹھاتے ہیں تو انہیں بولنے سے روک دیا جاتا ہے۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایوان ہندوستان کے عوام کی نمائندگی کرتا ہے اور یہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ادارہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد مواقع پر ان کا نام لیا جاتا ہے اور ان کے بارے میں باتیں کی جاتی ہیں مگر جب وہ اپنی وضاحت یا موقف پیش کرنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں روک دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ میں قائد حزب اختلاف کو بولنے سے روکا گیا۔ ان کے مطابق حالیہ مباحثے کے دوران انہیں اپنی بات مکمل کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، حالانکہ ان کا نام لیا گیا تھا اور وہ ایوان کے سامنے اپنا موقف رکھنا چاہتے تھے۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں کہا کہ گزشتہ مرتبہ جب انہوں نے ایوان میں خطاب کیا تھا تو انہوں نے وزیر اعظم سے متعلق بعض بنیادی سوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان سوالات میں وزیر اعظم کے کمپرومائزڈ ہو جانے حساس معاملات میں سمجھوتہ چکے)، جنرل منوج مکند نروا نے سے متعلق امور، جیفری ایپسٹین سے جڑے مباحث اور اڈانی گروپ کا معاملہ شامل تھا۔ ان کے مطابق ان حساس موضوعات کو اٹھانے کے بعد انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام مسائل ہندوستان کے عوام کے لیے انتہائی اہم ہیں اور پارلیمنٹ میں ان پر کھل کر گفتگو ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام کی بنیاد ہی یہ ہے کہ ایوان میں مختلف نظریات اور آوازوں کو اظہار کا پورا موقع دیا جائے۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے سخت حملہ بولتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کمپرومائزڈ ہیں اور اس کے نتائج پورا ملک دیکھ رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایسے اہم سوالات پر بحث سے گریز کیا جائے گا تو اس سے جمہوری عمل کمزور ہوگا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ پارلیمنٹ جمہوریت کا بنیادی ستون ہے اور یہاں اپوزیشن کی آواز کو دبانا جمہوری روایت کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق ملک کے عوام چاہتے ہیں کہ ان کے نمائندے ایوان میں آزادانہ طور پر سوال اٹھائیں اور حکومت ان کا جواب دے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined