
تصویر پریس ریلیز
راہل گاندھی نے ہریانہ کے گروگرام میں سدبھاؤ یاترا سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی اور مرکزی حکومت پر سخت حملہ بولا۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، بنگال اور آسام میں انتخابات ’چرائے‘ گئے اور اس کے لیے ایک منظم نظام بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور بیوروکریسی حکومت کے کنٹرول میں ہیں اور ووٹر فہرستوں میں بڑے پیمانے پر نام جوڑے اور حذف کیے جا رہے ہیں۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے کہا کہ چند برس قبل کنیا کماری سے کشمیر تک نکالی گئی یاترا کے دوران ’نفرت کے بازار میں محبت کی دکان‘ کا نعرہ عوام سے سامنے آیا تھا اور آج بھی ملک کو اسی سوچ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ہریانہ کانگریس کی سدبھاؤ یاترا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایسی یاتراؤں سے عوام کے مسائل کو سمجھنے اور سیاسی شعور بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے نوجوان رہنماؤں کو ملک بھر میں عوام کے درمیان جا کر اسی طرح کی یاترائیں کرنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ ہریانہ سمیت پورے ہندوستان میں بے روزگاری سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو ڈگریاں تو مل رہی ہیں، مگر روزگار نہیں مل رہا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چھوٹی اور درمیانی صنعتیں تباہ ہو رہی ہیں جبکہ حکومت اڈانی اور امبانی جیسے صنعت کاروں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو سوشل میڈیا اور انسٹاگرام میں الجھا کر اصل مسائل سے دور رکھنا چاہتی ہے۔
Published: undefined
امریکہ اور ہندوستان کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے سے ہندوستان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ زرعی شعبہ، توانائی تحفظ اور مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے امریکی کسانوں کے لیے ہندوستانی بازار کھول دیے ہیں اور امریکہ سے بڑے پیمانے پر سامان خریدنے کا وعدہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اس سے ہندوستانی فیکٹریاں اور چھوٹی صنعتیں متاثر ہوں گی۔
راہل گاندھی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت نے تیل کی خریداری کے معاملے میں امریکہ پر انحصار قبول کر لیا ہے اور ہندوستانی شہریوں کا ڈیٹا بھی امریکہ کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام فیصلے امریکی دباؤ میں کیے گئے ہیں۔ خطاب کے دوران انہوں نے جیفری ایپسٹین کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی پر سنگین الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ امریکہ، اڈانی معاملے اور دیگر فائلوں کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ اڈانی کے خلاف امریکہ میں مجرمانہ مقدمہ درج ہے اور یہ دراصل وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف کیس کے مترادف ہے، کیونکہ ’مودی اور اڈانی ایک ہیں‘۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کا مالیاتی ڈھانچہ اڈانی گروپ پر قائم ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومت دباؤ میں کام کر رہی ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ عوام میں حکومت کے خلاف غصہ بڑھ رہا ہے اور آخرکار یہی غصہ اقتدار کی تبدیلی کا سبب بنے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس ہی وہ واحد جماعت ہے جو آر ایس ایس کی ’نفرت اور تقسیم‘ کی سیاست کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ کسی سے خوف زدہ نہ ہوں کیونکہ کانگریس مستقبل میں بی جے پی کو شکست دے گی۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined