
کیرالہ میں کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے راہل گاندھی / ویڈیو گریب
کیرالہ کے ضلع اڈور میں ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے ریاست کی سیاست میں بی جے پی اور لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) کے درمیان گٹھ جوڑ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ یہ اتحاد دراصل پردے کے پیچھے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس انتخاب میں حقیقی مقابلہ یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) اور بی جے پی-ایل ڈی ایف کے غیر اعلانیہ اتحاد کے درمیان ہے۔
راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بی جے پی ملک بھر میں صرف کانگریس سے نظریاتی اختلاف رکھتی ہے، جبکہ ایل ڈی ایف قومی سطح پر بی جے پی کے لیے کوئی چیلنج نہیں ہے۔ ان کے مطابق، اگر دہلی میں بی جے پی اور کیرالہ میں ایل ڈی ایف اقتدار میں رہیں تو ریاست مکمل طور پر بی جے پی کے اثر میں آ جاتی ہے۔
Published: undefined
انہوں نے ایل ڈی ایف قیادت پر بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ کئی معاملات زیر سماعت ہونے کے باوجود ان لیڈروں سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو رہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کی جانب سے کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پر کسی قسم کا دباؤ یا کارروائی دیکھنے کو نہیں ملتی، جو اس گٹھ جوڑ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وہ اکثر اپنے خطابات میں مذہب اور مندروں کا ذکر کرتے ہیں لیکن سبریمالا معاملے پر خاموش ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مندر سے سونے کی چوری جیسے سنگین معاملے پر وزیر اعظم نے کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا، کیونکہ اس سے ایل ڈی ایف کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے کہا کہ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ بی جے پی اور ایل ڈی ایف ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق وزیر اعظم کے لیے مذہب صرف ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، جبکہ اصل مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی سطح پر بھی وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے تعلقات اور صنعت کار گوتم اڈانی سے روابط کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ان مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھانے کے باوجود وزیر اعظم نے جواب دینے سے گریز کیا۔
Published: undefined
اپنی تقریر میں انہوں نے کیرالہ کے سماجی ڈھانچے اور ماحولیات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ریاست ترقی کے باوجود اپنی خوبصورتی اور ہم آہنگی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں مختلف مذاہب اور برادریاں مل جل کر رہتی ہیں، جو ملک کے لیے ایک مثال ہے۔
راہل گاندھی نے روزگار اور صنعتی ترقی کے مسائل پر بھی زور دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ہندوستان میں مینوفیکچرنگ کو فروغ نہیں دیا جائے گا تو نوجوانوں کو روزگار کیسے ملے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کی معیشت چند بڑے صنعت کاروں کے ہاتھوں میں جا رہی ہے، جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔
Published: undefined
انہوں نے کیرالہ میں ربڑ کے کسانوں اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایل ڈی ایف حکومت ان کی مدد کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ یو ڈی ایف نے ماضی میں ان کی حمایت کی تھی۔ راہل گاندھی نے یو ڈی ایف کی جانب سے پانچ اہم گارنٹیوں کا اعلان کیا۔ ان میں خواتین کے لیے مفت بس سفر، طالبات کے لیے ماہانہ مالی امداد، بزرگوں کے لیے پنشن میں اضافہ، ہر خاندان کے لیے صحت بیمہ اور نوجوانوں کے لیے بلاسود قرض شامل ہیں۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ بزرگ شہریوں کے لیے ایک الگ وزارت قائم کی جائے گی اور ربڑ کے کسانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ اگر یو ڈی ایف اقتدار میں آتی ہے تو ریاست میں روزگار، صنعت اور سماجی بہبود کے شعبوں میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو تبدیل کیا جائے گا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined