قومی خبریں

بہار میں بگڑتی صورت حال پر رابڑی دیوی کا حملہ، نظم و نسق کی ناکامی کے ساتھ تنخواہوں کے بحران کا انتباہ

رابڑی دیوی نے بہار میں بگڑتی نظم و نسق کی صورت حال پر حکومت کو گھیرتے ہوئے کہا کہ قتل اور جرائم عام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے خواتین کو مالی امداد دینے کی اسکیم پر بھی تنخواہوں کے بحران کا اندیشہ ظاہر کیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

پٹنہ: بہار کی سابق وزیر اعلیٰ اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی رہنما رابڑی دیوی نے ریاست کی ڈبل انجن حکومت کو نظم و نسق کے مسئلے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں جرائم پیشہ عناصر کھلے عام وارداتیں انجام دے رہے ہیں اور انتظامیہ انہیں قابو کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

Published: undefined

خیال رہے کہ بہار میں نظم و نسق کی صورت حال کو لے کر راشٹریہ جنتا دل اور دیگر حزب اختلاف جماعتیں مسلسل حکومت کو گھیر رہی ہیں۔ پیر کے روز خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کے مسئلے پر اپوزیشن ارکان نے اسمبلی احاطے میں احتجاج بھی کیا۔ اس دوران ریاست میں امن و امان کی بگڑتی حالت پر سخت سوالات اٹھائے گئے۔

پٹنہ میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے رابڑی دیوی نے کہا کہ بہار میں قتل کے واقعات اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق روزانہ ریاست کے مختلف حصوں میں ہلاکتوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جب کہ عصمت دری اور لوٹ مار کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں عام شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

Published: undefined

وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر تنقید کرتے ہوئے رابڑی دیوی نے کہا کہ نظم و نسق کی موجودہ حالت تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف ہونے کے ناطے وہ مسلسل سوال اٹھا رہے ہیں، مگر حکومت کی جانب سے تسلی بخش جواب نہیں مل رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کی وضاحت خود حکمراں جماعت کو کرنی چاہیے کہ ریاست میں امن و امان کیوں متاثر ہو رہا ہے۔

رابڑی دیوی نے یہ بھی کہا کہ جرائم پر قابو پانے کے لیے حکومت کے پاس کوئی مؤثر حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جسے جنگل راج کہا جاتا تھا، اس دور میں ایسے حالات نہیں تھے، بلکہ موجودہ دور میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔

Published: undefined

سابق وزیر اعلیٰ نے ریاستی حکومت کی مالی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت خواتین کے بینک کھاتوں میں دس دس ہزار روپے مفت جمع کرے گی تو اس کا اثر دیگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس پہلے ہی مالی وسائل کی کمی ہے اور تنخواہوں کی ادائیگی میں بحران پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

راشٹریہ جنتا دل کے رکن اسمبلی بھائی وریندر نے بھی قانون و انتظام کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں لوگ خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور کسی بھی جگہ حادثہ پیش آنے کا اندیشہ رہتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined