قومی خبریں

’نوکری چھوڑو یا جان گنواؤ‘، 7 ہزار سرکاری کشمیری پنڈت ملازمین کو ملی دہشت گردانہ دھمکی!

’آل پی ایم پیکس ایمپلائیز ایسوسی ایشن‘ سے منسلک ہانڈو نے خط میں لکھی اس دھمکی کا خاص طور سے ذکر کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’ان کی لاش ان کے آبائی مقامات پر بھیج دی جائیں گی۔‘‘

سیکورٹی فورس، علامتی تصویر یو این آئی
سیکورٹی فورس، علامتی تصویر یو این آئی 

90 کی دہائی میں ٹائپ کی ہوئی پرچیاں دیواروں پر چسپاں کی جاتی تھیں۔ آج کا دور انٹرنیٹ کا ہے تو وہ پرانا خوف واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کے ذریعہ موبائل اسکرین پر اتر آیا ہے۔ لشکر طیبہ سے وابستہ تنظیم یو ایل سی (یونائٹیڈ لبریشن کونسل) کی نئی دھمکی نے وادی کشمیر میں کام کر رہے تقریباً 7 ہزار کشمیری پنڈت ملازمین کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ دھمکی میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یا تو سرکاری ملازمت چھوڑ دو یا پھر جان لیوا نتائج کے لیے تیار رہو۔ اس بار معاملہ صرف خط تک محدود نہیں ہے بلکہ ملازمین کا ذاتی ڈیٹا مبینہ طور پر آن لائن لیک ہونے سے تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ملازمین کا ذاتی فون نمبر، ان کے گھر کا پتہ اور گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبر تک شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ممبئی اور دہلی میں رہنے والے کشمیری پنڈتوں کا خاندان آج بھی کشمیر میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے کچھ زیادہ وقت کے دوران اس طرح کی کم از کم 5 دھمکیاں سامنے آ چکی ہیں، جس سے سیکورٹی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ کشمیری پنڈت برادری سے تعلق رکھنے والی صبا کول نے دہشت گردانہ دھمکی کو سیکورٹی سے متعلق سنگین بحران بتاتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب ’آل پی ایم پیکس ایمپلائیز ایسوسی ایشن‘ سے منسلک راکیش ہانڈو نے بھی شکایت درج کرائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 5 ستمبر کے دھمکی آمیز خط میں غیر مقامی ملازمین کو براہ راست نشانہ بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ ہانڈو نے خط میں لکھی اس دھمکی کا بھی ذکر کیا جس میں کہا گیا کہ ان کی لاش ان کے آبائی مقامات پر بھیج دی جائیں گی۔

راکیش ہانڈو کے مطابق تقریباً 6 ہزار پی ایم پیکج ملازمین گزشتہ تقریباً 15 سال سے وادی کشمیر میں کام کر رہے ہیں۔ ان میں کئی کرایے کے مکانات میں رہتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جیوان، مٹن اور ویریناگ میں 6042 کوارٹر بنائے گئے ہیں، لیکن 3 سال میں تقریباً 800 ہی ملازمین کو الاٹ کیے گئے۔ 7 ستمبر کو ہانڈو نے کلگام کے چوگام روڈ پر نوآ واقع پی ایم پیکج ملازمین کی ٹرانزٹ رہائش گاہوں کے تصاویر شیئر کیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کچھ گھر سنسان اور حساس علاقوں میں ہیں۔ وہاں سڑک اور نکاسی آب کی سہولیات ٹھیک نہیں ہیں اور کچھ جگہوں پر تعمیرات ادھوری ہیں اور مناسب سیکورٹی یا باڑ بھی نہیں ہے۔ ہانڈو نے حکومت کی جانب سے کشمیر میں حالات کے معمول ہونے کے دعووں پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھمکی جھیل رہے ملازمین کے لیے معمول کے حالات کا مطلب محفوظ چھت، محفوظ کالونی اور مکمل گھر ہے۔

سری نگر کے ایک سینئر صحافی کے مطابق دھمکی آمیز خط پہلے ڈارک ویب پر جاری کیے گئے اور بعد میں واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کے ذریعہ پھیلائے گئے۔ اس سے قبل 7 اگست کے دھمکی آمیز خط میں بھی یو ایل سی نے کشمیری پنڈت افسران، ان کے خاندان، رہنے کی جگہ اور کام کی جگہ کی معلومات ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس خط میں 6 سرکاری ملازمین کے نام بھی لیے گئے تھے۔ مہاجر کشمیری پنڈتوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم ’پنون کشمیر‘ نے ان ملازمین اور ان کے خاندانوں کی فوری سیکورٹی کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ تنظیم کے کنوینر اگنی شیکھر نے نام اور ذاتی رابطے کی معلومات کے ساتھ دھمکی جاری ہونے کو سنگین تشویش کا معاملہ قرار دیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ یہ پورا معاملہ اس بحالی پیکج سے منسلک ہے، جس کی شروعات 2008 میں ہوئی تھی۔ مرکزی حکومت نے اس وقت کشمیری مہاجرین کی واپسی اور بحالی کے لیے 3 ہزار سرکاری نوکریوں کا پیکج دیا تھا۔ نومبر 2015 میں 3 ہزار سرکاری نوکریوں کو منظوری دی گئی۔ اس طرح دونوں منصوبوں کے تحت مرکز کی مالی اعانت سے چلنے والی عہدوں کی تعداد 6 ہزار ہو گئی۔ 2022 میں چڈورا کے تحصیل دفتر میں راہل بھٹ کے قتل نے وادی میں کام پر لوٹے کشمیری پنڈت کے ملازمین کے سامنے موجود خطرے کی یاد پھر تازہ کر دی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔