قومی خبریں

جامعہ ملیہ اسلامیہ واقع جامع مسجد کے امام و خطیب قاری محمد سلیمان قاسمی کا انتقال، نماز جنازہ آج 3 بجے

نمازِ جنازہ کے لیے 3 بجے کا وقت مقرر کیا گیا ہے تاکہ دہلی اور قرب و جوار میں موجود مساجد کے ائمہ اپنی اپنی مساجد میں نمازِ جمعہ پڑھانے کے بعد بہ آسانی حضرت اقدس کی نمازِ جنازہ میں شرکت کر سکیں۔

<div class="paragraphs"><p>قاری محمد سلیمان قاسمی کی فائل تصویر</p></div>

قاری محمد سلیمان قاسمی کی فائل تصویر

 

مشہور و تاریخی تعلیمی ادارہ ’جامعہ ملیہ اسلامیہ‘ کی جامع مسجد میں طویل عرصہ تک امام و خطیب کے طور پر خدمات انجام دینے والے مولانا قاری محمد سلیمان قاسمی طویل علالت کے بعد جمعرات کی شب انتقال کر گئے۔ انھوں نے 83 سال کی عمر پائی اور ساکیت واقع ’میکس‘ اسپتال میں آخری سانس لی۔ موصولہ اطلاع کے مطابق ان کی نماز جنازِ جنازہ آج بعد نمازِ جمعہ 3 بجے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جامع مسجد میں ہی ادا کی جائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ حضرت مولانا محمد سلیمان قاسمی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جامع مسجد میں کم و بیش 50 سال تک امامت کے فرائض انجام دیے۔ ان کے جانے سے ایک پورے عہد کا خاتمہ ہو گیا۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی چلتی پھرتی تاریخ تھے۔ انھوں نے جامعہ اسکول میں تدریسی خدمات بھی انجام دی تھیں۔ انھیں احتراماً لوگ ’حضرت اقدس‘ کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ ان کا تعلق میوات کے نوح سے تھا اور زندگی کے آخری اوقات میں وہ مسجد کے قریب ایک انتہائی سادہ رہائش گاہ میں رہنے لگے تھے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر مفتی محمد مشتاق تجاروی نے مولانا محمد سلیمان قاسمی کے انتقال پر اپنے شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے ’قومی آواز‘ سے بات چیت کے دوران کہا کہ ’’مولانا محمد سلیمان قاسمی ایک یادگار شخصیت کے مالک تھے۔ بہت سے لوگ ایسے تھے جو خاص طور سے ان کے پیچھے نماز جمعہ ادا کرنے اور ان کی تقریر سننے دور دراز سے آیا کرتے تھے۔ جامعہ برادری میں بالعموم اور پورے حلقے میں بالخصوص ان کا بڑا اکرام کیا جاتا تھا۔‘‘

مفتی مشتاق تجاروی مولانا محمد سلیمان قاسمی کے انتقال پر انتہائی مغموم نظر آئے اور انھیں غسل دیے جانے کے بعد اپنی تعزیت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’مولانا کی وفات پوری جامعہ برادری کے لیے اور علماء کے حلقے کے لیے بڑا حادثہ ہے۔ وہ ایسی شخصیت تھے جن کو لوگ مدتوں یاد رکھیں گے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے اور ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔‘‘ انھوں نے یہ جانکاری بھی دی کہ نمازِ جنازہ کے لیے 3 بجے کا وقت مقرر کیا گیا ہے تاکہ دہلی اور قرب و جوار میں موجود مساجد کے ائمہ اپنی اپنی مساجد میں نمازِ جمعہ پڑھانے کے بعد بہ آسانی جامع مسجد پہنچ کر حضرت اقدس کی نمازِ جنازہ میں شرکت کر سکیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔