
کنور وجے پرتاپ سنگھ، تصویر سوشل میڈیا @Kvijaypratap
پنجاب میں آئندہ اسمبلی انتخاب سے قبل عام آدمی پارٹی (عآپ) میں بھگدڑ مچ گئی ہے۔ پارٹی کی جانب سے ہفتہ کو 40 امیدواروں پر مشتمل پہلی فہرست سامنے آنے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر 3 اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اتوار کو سنور سے رکن اسمبلی ہرمیت سنگھ پٹھان ماجرا اور سمانہ سے رکن اسمبلی اور سابق وزیر چیتن سنگھ جوڑاماجرا نے پارٹی کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ آج امرتسر نارتھ سے رکن اسمبلی اور سابق آئی پی ایس افسر کنور وجے پرتاپ سنگھ نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق یہ تینوں اراکین اسمبلی بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں۔
کنور وجے پرتاپ سنگھ نے اپنا استعفیٰ اسپیکر کو بھیج دیا ہے۔ وہ پارٹی سے ناراض چل رہے تھے اور انہیں پارٹی مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے معطل بھی کیا گیا تھا۔ سابق آئی پی ایس افسر 2022 اسمبلی انتخاب سے عین قبل اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے کر عام آدمی پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’میں نے پنجاب قانون ساز اسمبلی کی اپنی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ آپ نے جو پیار اور عزت مجھے دی ہے، اس کے لیے میں اپنی آخری سانس تک آپ کا احسان مندر رہوں گا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ایک قانون ساز کے طور پر میں نے اپنے کام کا 90 فیصد ہدف پورا کر لیا ہے۔
کنور وجے پرتاپ سنگھ نے ’ایکس‘ پر مزید لکھا کہ ’’آپ کے تعاون اور بھگوان کے آشیرواد سے ہم سب کو گلیوں اور ربن کی سیاست سے اوپر اٹھ کر منشیات، بھتہ خوری، گینگسٹرزم اور بدعنوانی میں پھنسے پنجاب کو واپس ایک ترقی پسند اور پیارا صوبہ بنانے کے لیے مل کر کوشش کرنی چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’میری سب سے بڑی حصولیابی یہ ہے کہ میں نے سیاست میں ’مائی-باپ‘ کلچر کو ختم کیا اور عوام کو اپنی حوصلہ افزائی کا ذریعہ مان کر کام کیا۔ ایوان میں میں نے ہمیشہ امرتسر والوں کی آواز اٹھائی، پانی اور سیوریج سے لے کر سرکٹ ہاؤس، کمپنی باغ، گندے نالے، گرونانک دیو یونیورسٹی اور برگاڑی بے ادبی معاملے تک کے مسائل کو اٹھایا۔‘‘
کنور وجے پرتاپ سنگھ نے ’ایکس‘ پر مزید لکھا کہ ’’ایوان میں پہلی بار میں نے گلیوں اور محلوں کے نام لے کر اپنے علاقے کے مخصوص مسائل اٹھائے۔ آپ کے ساتھ مل کر آئندہ کی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے میرا مقصد صاف ستھری سیاست اور شفاف انتظامیہ کو یقینی بنانا ہوگا۔ میرا واحد مقصد ’پنجاب فرسٹ‘ ہے۔ اس کے علاوہ میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہوگا۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔