
بھگونت مان نے صدر دروپدی مرمو سے کی ملاقات، تصویر ’ایکس‘ @BhagwantMann
پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے منگل کے روز صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کی۔ راشٹرپتی بھون کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس ملاقات کی اطلاع دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ملاقات کے بعد بھگونت مان نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر لکھا ہے کہ ’’آج دہلی میں انہوں نے صدر کے سامنے ملک میں ہو رہے ’جمہوریت کے قتل‘ کے خلاف مضبوطی سے آواز بلند کی ہے۔‘‘
Published: undefined
بھگونت مان نے الزام عائد کیا کہ غیر آئینی طریقوں سے سیاسی پارٹیوں کو توڑا جا رہا ہے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) و سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن (سی بی آئی) جیسی مرکزی ایجنسیوں کا غلط استعمال کر کے داغی لیڈروں کو بی جے پی کی ’واشنگ مشین‘ میں صاف کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کی کوششوں کو وزیر اعلیٰ نے جمہوری ڈھانچے کے ساتھ شدید کھلواڑ قرار دیا۔
Published: undefined
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کے دوران واضح کر دیا ہے کہ پنجاب میں ’آپریشن لوٹس‘ جیسی چالیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ ان کے مطابق ریاست کے اراکین اسمبلی لاکھوں پنجابیوں کی آواز ہیں اور پنجابی کبھی بھی غداری برداشت نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپ کا خادم ہونے کے ناطے میں ہر پنجابی کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم عوام کے مینڈیٹ اور آئینی اقدار کے تحفظ کے لیے آخری سانس تک لڑیں گے۔‘‘
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ آج صبح ہی عآپ چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے راگھو چڈھا سمیت دیگر راجیہ سبھا اراکین نے بھی صدر مرمو سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے بعد راگھو چڈھا نے ’ایکس‘ پر جاری بیان میں لکھا کہ ’’منگل کی صبح ہمیں صدر سے ملنے کا اعزاز حاصل ہوا، جہاں ہم 3 دیگر اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ موجود تھے۔‘‘ راگھو نے یہ بھی لکھا کہ ’’ہم نے انہیں آگاہ کیا کہ عآپ کی پنجاب حکومت ہمارے آئینی حقوق کے استعمال پر ہمیں نشانہ بنانے کے لیے ریاستی مشینری کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب دو تہائی اراکین نے بی جے پی میں انضمام کا فیصلہ کیا۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ جو پارٹی کبھی انتقامی سیاست کا الزام لگاتی تھی، آج وہی اس کی سب سے زہریلی شکل اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ہمیں صدر کی اس یقین دہانی سے تقویت ملی کہ آئینی حقوق اور جمہوری فیصلوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: سوشل میڈیا