قومی خبریں

ووٹنگ سے قبل ’بایو میٹرک‘ کے مطالبہ پر مفاد عامہ کی عرضی، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت کو بھیجا نوٹس

سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ہمیں جواب دینا ہوگا اور اگر ریاستیں تعاون نہیں کرتی ہیں یا وزارت خزانہ بجٹ منظور نہیں کرتی ہے تو پھر ہم سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس

 

ووٹنگ سے قبل ووٹرس کی بایو میٹرک اور چہرے کی شناخت کا مطالبہ لے کر سپریم کورٹ میں داخل کی گئی مفاد عامہ کی عرضی پر نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن و ریاستوں کو نوٹس بھیجا ہے۔ سپریم کورٹ نے نوٹس کا 4 ہفتے میں جواب طلب کیا ہے۔ آئندہ اسمبلی انتخابات میں دھاندلی روکنے کو لے کر یہ مطالبہ کیا گیا ہے۔ سماعت کے دوران سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ اس کے لیے قوانین میں بڑے پیمانے پر تبدیلی اور بھاری مالیاتی بوجھ کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بیشک الیکشن کمیشن کے پاس اختیارات ہیں۔

Published: undefined

عرضی گزار اشونی اپادھیائے نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس مکمل اختیارات حاصل ہیں۔ لیکن ریاستوں کو بھی تعاون کرنا ہوگا اور نوٹس جاری کرنا ضروری ہے۔ سی جے آئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ہمیں جواب دینا ہوگا اور اگر ریاستیں تعاون نہیں کرتی ہیں یا وزارت خزانہ بجٹ منظور نہیں کرتی ہے تو پھر ہم سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ سماعت کے دوران اپادھیائے نے کہا کہ مجوزہ نظام انتخابی دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے ایک روک تھام کے طریقہ پر کام کرے گا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں ایسے اقدامات کو نافذ کرنا شاید ممکن نہ ہو، لیکن انہوں نے دلیل دی کہ مستقبل کے انتخابات میں اس نظام کو نافذ کیا جا سکتا ہے، تاکہ پراکسی ووٹنگ اور ووٹرس کو لالچ دینے جیسی روایات پر روک لگائی جا سکے۔

Published: undefined

سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ آئندہ انتخابات کے لیے ان عرضیوں پر غور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کیا آئندہ اسمبلی انتخابات یا ریاستی انتخابات کے لیے اس طرح کا اقدام اپنانا مناسب ہے، اس کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ نوٹس جاری کریں۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کی وجہ 20 مارچ 2026 کو اس وقت پیدا ہوئی جب عرضی گزار کو پتہ چلا کہ الیکشن کمیشن کے ذریعہ اٹھائے گئے مختلف اقدامات کے باوجود رشوت خوری، غیر ضروری اثر و رسوخ، نقالی، دوہری ووٹنگ اور فرضی ووٹنگ کے واقعات مسلسل جاری رہیں، جس سے انتخابی عمل میں عوام کا اعتماد کمزور ہوا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined