
جیتو پٹواری / آئی اے این ایس
بھوپال: مدھیہ پردیش میں بجلی کے نرخوں میں مجوزہ اضافے پر سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے اس فیصلے کو عوام مخالف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ براہ راست عام صارفین کی جیب پر حملہ ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ موہن یادو کو ایک مکتوب لکھ کر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
Published: undefined
جیتو پٹواری نے اپنے مکتوب میں کہا کہ ریاست میں ایک بار پھر بی جے پی حکومت عوام پر معاشی بوجھ ڈالنے جا رہی ہے۔ انہوں نے یکم اپریل سے نافذ ہونے والی مجوزہ بجلی قیمتوں میں 4.80 فیصد اضافے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عوامی خدمت کے بجائے محض محصولات جمع کرنے کے نظریہ پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے گزشتہ دس برسوں کے دوران بجلی نرخوں میں ہونے والے اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش میں بجلی کی قیمتوں میں 22 سے 24 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے صفر سے 50 یونٹ تک کی شرح جو پہلے 3.65 تھی، اب بڑھ کر 4.45 ہو گئی ہے، جو کہ بیس فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر ماہ فیول سرچارج کے نام پر تین فیصد سے زیادہ اضافی بوجھ بھی صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔
Published: undefined
پٹواری نے کہا کہ موجودہ مجوزہ اضافہ معمولی نہیں بلکہ پہلے سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے درمیان ایک اور ضرب ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ پر بیس فیصد رعایت کے دعووں کو بھی حقیقت سے دور قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں ابھی الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال محدود ہے، اس لیے اس رعایت کا فائدہ بہت کم لوگوں تک محدود رہے گا جبکہ اصل بوجھ عام گھریلو صارفین پر ہی پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسی پالیسیاں پیش کر رہی ہے جن کا زمینی حقیقت سے کوئی خاص تعلق نہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات صرف دکھاوے کے لیے ہیں جبکہ عملی طور پر عوام کو کسی قسم کی راحت فراہم نہیں کی جا رہی۔
Published: undefined
کانگریس کے ریاستی صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجلی نرخوں میں اس مجوزہ اضافے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو کانگریس ریاست بھر میں سڑکوں سے لے کر ایوان تک اس کے خلاف سخت اور فیصلہ کن احتجاج کرے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined