قومی خبریں

’پی ایم 2.5‘ ملک کی راجدھانی دہلی اور شمالی ہند کے دیگر خطوں میں بھی لوگوں کا دم گھونٹ رہا: جے رام رمیش

جے رام رمیش کے مطابق ’نیشنل کلین ایئر پروگرام‘ میں پی ایم 10 پر زیادہ توجہ دی گئی ہے، لیکن صحت عامہ کو اصل خطرہ باریک ذرات یعنی پی ایم 2.5 سے ہے، جو سب سے زیادہ جان لیوا ہیں۔

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس 

کانگریس نے بڑھتی ہوئی آلودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے دہلی اور شمالی ہندوستان میں بڑھتے ہوئے پی ایم 2.5 کو سنجیدگی سے لینے کی اپیل کی ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری انچارج کمیونیکیشن اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کی۔ انہوں نے لکھا کہ ’’پی ایم 2.5 ملک کی راجدھانی اور خاص طور پر شمالی ہندوستان کے دیگر علاقوں میں بھی لوگوں کا دم گھونٹ رہا ہے۔‘‘

اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں کانگریس لیڈر مزید لکھتے ہیں کہ ’’کافی عرصے سے یہ بات واضح ہے کہ پی ایم 2.5 یعنی 2.5 مائیکرو میٹر یا اس سے چھوٹے باریک ذرات کے لیے مقررہ حفاظتی معیارات، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے حفاظتی معیار (24 گھنٹے کی اوسط) سے 4 گنا زیادہ ہیں، جبکہ سالانہ اوسط کے لحاظ سے یہ 8 گنا زیادہ ہیں۔‘‘

جے رام رمیش کے مطابق ’نیشنل کلین ایئر پروگرام‘ میں پی ایم 10 پر زیادہ توجہ دی گئی ہے، لیکن صحت عامہ کو اصل خطرہ باریک ذرات یعنی پی ایم 2.5 سے ہے، جو سب سے زیادہ جان لیوا ہیں۔ پی ایم 2.5 کے معیارات پر فوری طور پر نظرثانی کرنے اور انہیں سختی سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ پوسٹ میں کانگریس لیڈر نے بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’نام نہاد پی ایم 3.0 حکومت، جو اس وقت شدید مشکلات میں گھری ہوئی ہے، کو اس مسئلے کو اب تک کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی سے لینا چاہیے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ دہلی فضائی آلودگی کی سنگین صورتحال سے ملسل دو چار ہے۔ پیر کے روز ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 385 سے 428 کے درمیان رہا، جو اسے ’انتہائی خراب‘ سے ’سنگین‘ زمرے میں رکھتا ہے۔ اکشردھام مندر اور آئی ٹی او جیسے علاقوں میں اے کیو آئی 349 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ روہنی میں یہ بڑھ کر 396 تک پہنچ گیا۔ دسہرہ کے بعد فضائی معیار میں مسلسل گراوٹ کے پیش نظر کمیشن برائے ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم) نے دہلی-این سی آر میں گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان (جی آر اے پی) کے پہلے مرحلے کو پہلے ہی نافذ کر دیا تھا۔ یہ صورتحال فضائی آلودگی کے مسلسل بڑھتے ہوئے ماحولیاتی چیلنج کو ظاہر کرتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔