
ایم کے اسٹالن / آئی اے این ایس
چنئی: تمل ناڈو میں حدبندی کے معاملے پر سیاسی ماحول مسلسل گرم ہوتا جا رہا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے سربراہ ایم کے اسٹالن نے اس مسئلے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے عوام سے بڑے پیمانے پر احتجاج کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ جمعرات کے دن اپنے گھروں پر کالے جھنڈے لہرائیں اور عوامی مقامات پر بھی اسی طرح احتجاج درج کرائیں۔
Published: undefined
ایم کے اسٹالن نے اپنے پیغام میں کہا کہ مجوزہ حدبندی تمل ناڈو کے لیے ایک سنگین خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق یہ محض ایک انتظامی عمل نہیں بلکہ جنوبی ریاستوں کے ساتھ ایک طرح کی ناانصافی ہے، جس کے ذریعے شمالی ریاستوں کی سیاسی طاقت میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ جنوبی ریاستوں کو کمزور کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ تمل ناڈو اس معاملے پر خاموش نہیں رہے گا اور ہر طبقے کے لوگ سڑکوں پر نکل کر اپنا احتجاج درج کرائیں گے۔ اسٹالن نے کہا کہ وہ اس سے پہلے بھی اپنے ویڈیو پیغام میں اس مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کر چکے ہیں، مگر مرکز کی جانب سے اس پر کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی جا رہی۔
Published: undefined
وزیر اعلیٰ نے مرکز پر الزام عائد کیا کہ وہ تعمیری تجاویز کو نظر انداز کر رہی ہے اور ایک ایسے قانون کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے جس سے تمل ناڈو کی آواز کمزور پڑ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جنوبی ریاستوں کی نشستوں میں اضافہ ہوگا، مگر حقیقت میں نشستوں کی تقسیم اس انداز سے کی جا رہی ہے جو شمالی ریاستوں کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آبادی پر قابو پانے کے لیے کیے گئے اقدامات کی سزا دی جا رہی ہے؟ ان کے مطابق اگر کوئی ریاست ترقی کے راستے پر گامزن ہوتی ہے اور آبادی کو متوازن رکھتی ہے تو اس کے بدلے اس کی سیاسی نمائندگی کم کرنا کسی بھی طرح مناسب نہیں۔
Published: undefined
ایم کے اسٹالن نے اس عمل کو جنوبی ریاستوں کے لوگوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ اس کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھانا ضروری ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور جمہوری طریقے سے احتجاج کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ تمل ناڈو کے لوگ اپنی اجتماعی طاقت کا مظاہرہ کریں اور دہلی کو یہ پیغام دیں کہ ان کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسٹالن نے مجوزہ قانون کو قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف آبادی کی بنیاد پر حدبندی کرنا مناسب نہیں ہوگا اور اس کے نفاذ کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined