
دہلی میٹرو / آئی اے این ایس
انتخابات کے دوران دہلی میٹرو میں اب کوئی سیاسی اشتہار نہیں نظر آئے گا۔ دہلی ہائی کورٹ نے اس پابندی کو ہٹانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کو صحیح ٹھہرایا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ میٹرو کا براہ راست سرکاری نظام سے تعلق ہے اور اس لیے منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے یہاں سیاسی تشہیر کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس فیصلے کے بعد اشتہاری ایجنسیوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے جنہوں نے اس حکم کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
Published: undefined
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے سخت ہدایات جاری کی تھیں کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے دوران دہلی میٹرو کی املاک پر کوئی سیاسی اشتہار نہیں لگایا جائے گا۔ اس فیصلے کو اشتہاری ایجنسیوں نے دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ایجنسیوں کی دلیل تھی کہ یہ پابندی ان کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔ حالانکہ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے ان دلائل کو یکسر مسترد کر دیا۔ عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ عام لوگوں کے مفادات اور انتخابات کا منصفانہ ہونا کسی بھی ایجنسی کے منافع سے زیادہ ضروری ہے۔
Published: undefined
سماعت کے دوران اشتہاری ایجنسیوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اشتہارات جب بس اسٹینڈز پر چلائے جا سکتے ہیں تو میٹرو میں کیوں نہیں؟ اس پر ہائی کورٹ نے صورتحال پوری طرح واضح کردی۔ عدالت نے کہا کہ میٹرو کا براہ راست تعلق حکومت کی شناخت اور گورننس سے ہے۔ اسے سڑک کے کنارے بنے دوسرے عوامی مقامات یا بس اسٹینڈ کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے بھی عدالت میں واضح کیا کہ ایک سرکاری ادارہ ہونے کے ناطے وہ الیکشن کمیشن کے ضوابط کو ماننے کے لیے پوری طرح پابند ہے۔
Published: undefined
الیکشن کمیشن نے عدالت میں اپنے اس قدم کا بھرپور دفاع کیا۔ کمیشن نے بتایا کہ انتخابات کے دوران تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع حاصل ہوسکیں، اس لیے یہ پابندی لگائی گئی ہے۔ کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہ ہدایات آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جاری کی گئی تھیں، تاکہ انتخابات کے دوران کوئی بھی پارٹی سرکاری نظام کا فائدہ نہ اٹھاپائے۔ ہائی کورٹ نے بھی تسلیم کیا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کے لیے کمیشن کا یہ طریقہ کار قانونی دائرہ کار کے اندر بلکل صحیح ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined