
راہل گاندھی، گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کو احتجاجی طلبہ پر لاٹھی چارج اور تعلیمی نظام کے معاملے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’فیس بک‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی ہندوستان کی تاریخ کے سب سے بڑے نوجوان مخالف وزیر اعظم ہیں۔ اس قدر نوجوان مخالف ہیں کہ ایک ناکام وزیر تعلیم سے استعفیٰ تک نہیں لے سکتے۔‘‘
راہل گاندھی نے اپنی ’فیس بک‘ پوسٹ میں ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ اپنی بات رکھ رہے ہیں، ساتھ ہی مظاہرین طلبہ پر لاٹھی چارج کے مناظر بھی نظر آ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ 152پیپر لیک، 7.5 کروڑ طلبہ متاثر اور سزا ایک بھی مجرم کو نہیں۔ سزا کسے ملی؟ محنتی نوجوانوں کو۔ اور جب ان بچوں نے تعلیم کے جائز سوالات اٹھائے تو جواب میں ملی لاٹھی اور حراست۔ پیپر لیک کرنے والے مجرم آزاد اور واجب مسائل اٹھانے والے طلبہ گھسیٹے جاتے ہیں، پیٹے جاتے ہیں۔ یہ حکومت صرف نوجوانوں کو ناکام ہی نہیں کر رہی ہے بلکہ ان پر ٹوٹ پڑی ہے۔‘‘
راہل گاندھی کے علاوہ کانگریس کی جنرل سکریٹری اور وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے بھی طلبہ پر لاٹھی چارج کے معاملے پر حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’بی جے پی حکومت کو بچوں پر لاٹھی چلانے کے بجائے اپنی پالیسیوں اور نااہلیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ پہلے نیٹ کا پیپر لیک ہوا، امتحان منسوخ ہوا اور ری-نیٹ میں بھی بے ضابطگیوں کی خبریں آئی ہیں۔ کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم خود نگرانی کریں گے، اس کے باوجود یہ سب کیوں اور کیسے ہو رہا ہے؟ بار بار اتنے پیپر لیک کیسے ہو رہے ہیں؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’پارلیمنٹ میں اس مسئلے پر تفصیلی بحث ہونی چاہیے اور وزیر اعظم کو ملک کے کروڑوں نوجوانوں کی بات سننی چاہیے، انہیں جواب دینا چاہیے۔‘‘