
وزیر اعلیٰ تلنگانہ اے ریونت ریڈی / آئی اے این ایس
حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے پیر کو الزام عائد کیا کہ ریاست میں خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ایک کروڑ ووٹروں کے نام ووٹر فہرست سے حذف کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کے نام پر بی جے پی مخالف ووٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
حیدرآباد میں حال ہی میں انتقال کر جانے والے کمیونسٹ رہنما سرم پلی ملا ریڈی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور اقلیتی برادریوں کے ووٹوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جمہوری طریقے سے انتخابات جیتنے میں ناکامی کے بعد بی جے پی نئی نئی حکمت عملیاں اختیار کر رہی ہے۔ ان کے بقول، بی جے پی کے رہنما کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ تلنگانہ میں بھی وہی کیا جائے گا جو مغربی بنگال میں کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی مخالف ووٹوں کو منظم انداز میں فہرست سے ہٹایا جا رہا ہے۔
ریونت ریڈی نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی نجی ایجنسیوں کے ذریعے سروے کرا رہی ہے اور منصوبہ بند طریقے سے ووٹروں کے نام حذف کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے الیکشن کمیشن کا استعمال کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی سطح پر بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی کا سیاسی مقابلہ کرنے کے لیے تمام غیر بی جے پی جماعتوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ نے بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایس آئی آر کے معاملے پر ایک لفظ بھی نہیں بول رہی۔ انہوں نے بائیں بازو کی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کے پیچھے کارفرما مفاہمت یا سیاسی سمجھوتے کو سمجھیں اور غریبوں و اقلیتوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے آگے آئیں۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ کمیونسٹ جماعتیں طویل عرصے سے غریبوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہیں اور سرخ پرچم دیکھ کر غریبوں کو اعتماد ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے بے زمین غریبوں کے لیے مناسب اجرت کی لڑائی لڑی، جبکہ کانگریس نے کم از کم اجرت کا قانون نافذ کیا۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت نے 24.56 لاکھ ایکڑ مختص اراضی تقسیم کی اور اس وقت قبائلیوں کے پاس 10 لاکھ ایکڑ اراضی ہے۔ انہوں نے اسے کمیونسٹ تحریکوں کی جدوجہد کا کانگریس کی جانب سے جواب قرار دیا۔ ان کے مطابق کانگریس نے منریگا کے ذریعے روزگار فراہم کیا اور غذائی تحفظ کا قانون نافذ کرکے کمیونسٹ جماعتوں کی جانب سے اٹھائے گئے کئی مسائل کا حل نکالا۔
ملا ریڈی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی کسانوں کے مفادات کے لیے وقف کردی اور ان کی موت کسان برادری کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بٹائی دار کسانوں کے حقوق اور فصلوں کی منافع بخش قیمت کے لیے ملا ریڈی کی جدوجہد نمایاں رہی۔
ریونت ریڈی نے یقین دلایا کہ ان کی حکومت ملا ریڈی کی کتابوں اور خیالات کو مدنظر رکھتے ہوئے زرعی شعبے کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ میں بحث کے بعد یہ طے کیا جائے گا کہ ملا ریڈی کی یاد کو مستقل طور پر کس طرح خراج پیش کیا جائے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔