
نئی دہلی: دہلی خواتین کمیشن کے طویل عرصے سے غیر فعال رہنے کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ میں ایک مفادِ عامہ عرضی داخل کی گئی ہے، جس میں کمیشن کو فوری طور پر مکمل طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ خواتین کی فلاح اور تحفظ کے لیے قائم یہ اہم ادارہ گزشتہ ایک سال سے عملی طور پر بند پڑا ہے، جس کے نتیجے میں متاثرہ خواتین کو شکایات درج کرانے، کاؤنسلنگ حاصل کرنے اور قانونی مدد پانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
Published: undefined
یہ عرضی آر جے ڈی کے رکن سودھا کر سنگھ کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ عرضی کے مطابق جنوری 2024 سے دہلی خواتین کمیشن کا دفتر فعال نہیں ہے اور ادارہ مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ عرضی میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جنوری 2024 کے بعد کمیشن کے صدر کے عہدے پر کوئی تقرری نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے انتظامی اور فیصلہ سازی کا پورا عمل رک گیا۔ صدر کے ساتھ ساتھ کمیشن کے اراکین کی تعداد بھی ناکافی ہے، جس کے باعث ادارہ اپنے آئینی اور قانونی فرائض ادا کرنے سے قاصر ہے۔
Published: undefined
عرضی میں مزید بتایا گیا ہے کہ مئی 2024 میں کمیشن کے 223 معاہداتی ملازمین کو فارغ کر دیا گیا تھا، جس کے بعد عملی طور پر کوئی اسٹاف باقی نہیں رہا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں کاؤنسلنگ یونٹ، ریپ کرائسز سیل اور شکایات کی سماعت سے متعلق تمام انتظامات بند ہو گئے۔ خواتین کی مدد اور تحفظ کے لیے قائم یہ ادارہ اس وقت مکمل طور پر غیر فعال ہے، جبکہ دہلی میں خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
Published: undefined
عرضی گزار کا کہنا ہے کہ دہلی خواتین کمیشن کا بند رہنا خواتین کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ عرضی میں آئین کے مضامین 14، 15(3) اور 21 کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی حکومت پر غفلت اور عدم دلچسپی کا الزام لگایا گیا ہے۔ عرضی کے مطابق کمیشن کی عدم فعالیت کے سبب متاثرہ خواتین کے پاس شکایت درج کرانے اور فوری مدد حاصل کرنے کے لیے کوئی مؤثر پلیٹ فارم موجود نہیں رہا۔
Published: undefined
عرضی میں دہلی ہائی کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ کمیشن کو فوری طور پر بحال کرنے کے احکامات دیے جائیں، مقررہ مدت میں صدر اور اراکین کی تقرری کی جائے، برطرف کیے گئے اسٹاف کو دوبارہ بحال کیا جائے اور شکایات کے ازالے کا نظام ازسرِنو شروع کیا جائے۔ ساتھ ہی عدالت سے یہ بھی گزارش کی گئی ہے کہ آئندہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو، اس کے لیے عدالتی نگرانی میں ایک شفاف اور مقررہ طریقۂ کار وضع کیا جائے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined