قومی خبریں

کے جی ایم یو میں درگاہ اراضی کے تحفظ کی درخواست خارج، عدالت کا درخواست گزاروں کو وقف ٹریبونل سے رجوع کرنے کا مشورہ

درخواست گزاروں نے عدالت سے کہا تھا کہ حکومت کو مذہبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں مداخلت سے باز رکھنے، مبینہ تجاوزات ہٹانے اور درگاہ کی املاک کے تحفظ کی ہدایت کی جائے۔

<div class="paragraphs"><p>الٰہ آباد ہائی کورٹ، لکھنؤ بنچ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

الٰہ آباد ہائی کورٹ، لکھنؤ بنچ، تصویر آئی اے این ایس

 

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے اترپردیش کی راجدھانی کے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو) میں حضرت مخدوم شاہ مینا صاحب اور حاجی الحرمین شاہ کی درگاہوں کی اراضی کے تحفظ، مبینہ تجاوزات ہٹانے اور مذہبی سرگرمیوں میں مداخلت روکنے کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں وقف ایکٹ کے تحت موثر قانونی متبادل دستیاب ہیں، اس لیے درخواست گزار وقف ٹریبونل سے رجوع کر سکتے ہیں۔ یہ حکم جسٹس آلوک ماتھر اور امیتابھ  کمار رائے کی بنچ نے سید بابر اسلام اور ایک دیگر شخص کی طرف سے دائر درخواست پر جاری کیا۔

Published: undefined

درخواست میں کہا گیا تھا کہ دونوں درگاہوں کی املاک کا صحیح طریقے سے تحفظ نہیں کیا جا رہا ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا کہ کچھ زمین پر قبضہ کیا گیا ہے اور کے جی ایم یو انتظامیہ کی جانب سے درگاہ کی زمین سے متعلق سرگرمیاں کی جارہی ہیں۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے کہا تھا کہ حکومت کو مذہبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں مداخلت سے باز رکھنے کرنے، مبینہ تجاوزات ہٹانے اور درگاہ کی املاک کے تحفظ کی ہدایت کی جائے۔

Published: undefined

سماعت کے دوران بنچ کو بتایا گیا کہ اسی تنازعہ کی وجہ سے درگاہ کی انتظامیہ کمیٹی پہلے بھی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر چکی ہے۔ اس معاملے میں کے جی ایم یو کی جانب سے کہا گیا تھا کہ درگاہ کے احاطے کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جارہا ہے اور عقیدت مندوں کے آنے جانے اور زیارت و عبادت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اپنے حکم میں بنچ نے کہا کہ انتظامیہ کمیٹی درگاہ کی جائیداد اور حقوق کی حفاظت کے لیے قانونی طور پر مجاز ادارہ ہے۔ صرف عقیدت مند ہونے کی بنیاد پر کوئی شخص درگاہ کی پوری جائیداد کے تحفظ اور انتظامامات سے متعلق حقوق کے لیے درخواست دائر نہیں کرسکتا۔

Published: undefined

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ وقف ایکٹ 1995 کی دفعہ 83(2) کے تحت نہ صرف متولی ہی نہیں بلکہ کوئی بھی متاثرہ شخص وقف ٹریبونل میں درخواست دائر کر سکتا ہے۔ اس لیے وقف ٹریبونل درخواست گزاروں کی شکایات کے ازالے کے لیے موزوں فورم ہے۔ ان تبصروں کے ساتھ، عدالت نے درخواست کو میرٹ کے بغیر مانتے ہوئے خارج کر دیا۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined