
سپریا شرینیت / ویڈیو گریب
یکم اپریل سے ہندوستان میں کئی چیزوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ خصوصاً کمرشیل ایل پی جی سلنڈر، پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں اور ٹول ٹیکس میں اضافہ سے عام لوگوں پر زبردست اثر پڑا ہے۔ اس تعلق سے کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’خلیج میں جنگ ہو رہی ہے، لیکن مودی حکومت کو لفاظی سے ہی فرصت نہیں۔ بے چاری عوام مہنگائی کی مار برداشت کر رہی ہے۔‘‘
Published: undefined
کانگریس نے پارٹی ترجمان سپریا شرینیت کی ایک ویڈیو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کی ہے، جس میں وہ وزیر اعظم نریندر مودی کی عوام مخالف پالیسیوں پر حملہ کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ ویڈیو میں وہ کہتی ہیں کہ ’’آج یکم اپریل سے ہندوستان میں تمام چیزوں کی قیمتیں بے تحاشہ بڑھا دی گئی ہیں۔ کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 218 روپے بڑھائی گئی، پریمیم پٹرول کی قیمت 11 روپے فی لیٹر بڑھائی گئی، پریمیم ڈیزل 1.5 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا، ٹول ٹیکس 10 فیصد مہنگا ہوا، فاسٹیگ پاس کی قیمت 75 روپے بڑھائی گئی، 900 دواؤں کی قیمتیں 10 فیصد بڑھائی گئیں جن میں بخار، لیور، کڈنی، بی پی، ذیابیطس کی دوائیں شامل ہیں۔‘‘
Published: undefined
اس ویڈیو میں کانگریس ترجمان نے مزید کچھ اہم چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کا ذکر بھی کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’5 روپے والا بسکٹ اب 6 روپے میں ملے گا، 30 روپے والی بریڈ اب 35 روپے میں فروخت ہوگی، 100 روپے کی چپل اب 120 روپے میں خریدی جا سکے گی۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتی ہیں کہ پہلے بھی ایل پی جی، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں، اب ایک بار پھر انھیں مہنگا کر دیا گیا ہے۔
Published: undefined
سپریا شرینیت نے آسٹریلیا اور برطانیہ کی مثال پیش کر مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے، جہاں عالمی بحران والی حالت میں عوام کو کئی طرح کی سہولتیں مہیا کی گئی ہیں۔ آسٹریلیا کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’آسٹریلیا کی حکومت نے 3 ماہ کے لیے پٹرول 26 سینٹ سستا کر دیا، ایکسائز ڈیوٹی نصف کر کے براہ راست فائدہ عوام کو دیا ہے، اور ٹرک والوں کے لیے ’روڈ یوزر چارج‘ مفت کر دیا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ ہونے والی چیزیں (مثلاً دودھ، پھل، سبزی، انڈے، گوشت وغیرہ) مہنگی نہ ہوں۔‘‘ برطانیہ کے تعلق سے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’برطانوی حکومت نے ہر کنبہ کو بجلی بل پر 100 پاؤنڈ کی چھوٹ دی ہے۔‘‘
Published: undefined
ویڈیو میں سپریا شرینیت اس بات پر ناراض دکھائی دیتی ہیں کہ جب بھی ہندوستان میں مہنگائی کی بات کی جاتی ہے تو حکومت کی چاپلوسی کرنے والے پاکستان اور نیپال جیسے بدحال ممالک کا حوالہ دینا شروع کر دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’جب بھی دقتیں اور مہنگائی کی بات کرو تو ’چرن چمبک‘ پاکستان اور نیپال جیسے چھوٹے ممالک کے برے حال کا حوالہ دینے لگتے ہیں۔ ہم اپنا موازنہ برطانیہ اور آسٹریلیا سے کریں گے، یا بدحال پاکستان سے؟‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز
تصویر: پریس ریلیز