قومی خبریں

تہواروں میں بڑھتی نفرت پر کانگریس کا اظہارِ تشویش، انتظامیہ سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ

کانگریس رہنما پون کھیڑا نے تہواروں کے دوران بڑھتے فرقہ وارانہ تناؤ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انتظامیہ سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور عوام سے ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کی

<div class="paragraphs"><p>پون کھیڑا / آئی اے این ایس</p></div>

پون کھیڑا / آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک ویڈیو پیغام میں ملک میں تہواروں کے دوران بڑھتے فرقہ وارانہ تناؤ اور نفرت کے ماحول پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ برسوں میں تہواروں کی اصل روح کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جو ہندوستان کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرناک اشارہ ہے۔

پون کھیڑا نے کہا کہ ہندوستان میں ہولی، عید، کرسمس، ہنومان جینتی اور رام نومی جیسے تہوار ہمیشہ خوشی، بھائی چارے اور باہمی احترام کی علامت رہے ہیں، مگر اب ایک ایسا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے جس میں ان مواقع پر تناؤ اور تصادم کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہنومان جینتی کے موقع پر مساجد کے باہر تیز آواز میں موسیقی بجا کر ماحول کو خراب کیا جاتا ہے، جبکہ کرسمس کے دوران گرجا گھروں میں ہنگامہ آرائی کی خبریں سامنے آتی ہیں۔

انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نفرت انگیز بیانات اور سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایک طرح کا "داخلہ امتحان" چل رہا ہو، جس میں جو شخص جتنی زیادہ نفرت انگیزی کرے، وہ اتنا ہی آگے بڑھتا ہے۔

پون کھیڑا نے دہلی کے اتم نگر میں ہولی کے دوران پیش آئے ایک قتل کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا، جس کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سڑکوں پر اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔

انہوں نے وارانسی، پونے اور بہار کے مدھوبنی میں پیش آئے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی بنیادوں پر تشدد اور حملوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، جو نہایت تشویشناک ہیں۔ اپنے پیغام میں انہوں نے بین الاقوامی معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اصولوں پر مبنی رہی ہے اور تاریخی تعلقات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

ویڈیو کے اختتام پر پون کھیڑا نے دہلی پولیس اور دیگر انتظامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ بروقت مداخلت کریں اور نفرت کے ماحول کو بڑھنے سے روکیں۔ انہوں نے اسے ایک اہم امتحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف حکومت اور پولیس بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ سماجی ہم آہنگی اور مشترکہ تہذیبی ورثے کا تحفظ کرے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ نفرت پھیلانے والی قوتوں کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں اور ملک کی یکجہتی کو برقرار رکھیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined