
ویڈیو گریب
کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے دہلی میں سی پی ایم کے دفتر پر پولیس کارروائی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی قومی سیاسی جماعت کے دفتر میں داخل ہو کر اس نوعیت کی کارروائی جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس کارروائی کا حکم دینے والوں کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس سے قبل سی پی ایم کے رکن پارلیمنٹ جان برٹاس نے بھی ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا تھا۔
لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں بھی اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث کارروائی متاثر ہوئی۔ قائم مقام چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے ایوان میں نظم و ضبط برقرار نہ رہنے پر کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔ اپوزیشن نے مختلف سیاسی اور پارلیمانی معاملات پر احتجاج کیا۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی سے متعلق اپنے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کوئی غیر پارلیمانی بات نہیں کہی بلکہ صرف سچ بیان کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر سچ بولنے پر مجھے سزا بھی دی جاتی ہے تو بھی میں سچ ہی بولوں گی۔‘‘ پرینکا گاندھی نے دعویٰ کیا کہ خواتین سے متعلق بعض واقعات اور ان سے جڑے افراد کے حوالے سے ان کے بیان کے حق میں شواہد موجود ہیں اور اسی تناظر میں انہوں نے اپنی بات ایوان میں رکھی تھی۔
لوک سبھا کی کارروائی شروع ہونے سے قبل سماجوادی پارٹی کے ارکان نے پارلیمنٹ احاطے میں احتجاج کیا۔ اس دوران ارکان نے ’چندہ چور، گدی چھوڑ‘ کے نعرے لگائے اور مرکزی حکومت کو مختلف معاملات پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ احتجاج کے بعد اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
لوک سبھا کی کارروائی بدھ کی صبح شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان نے مختلف مسائل پر ہنگامہ کیا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی معمول کے مطابق نہیں چل سکی۔ شور شرابے کے دوران اسپیکر نے کارروائی کو دوپہر 12 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ آج ایوان میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر دوسرے دن کی بحث دوبارہ شروع ہونے اور حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے سوالات کا جواب دیے جانے کا امکان ہے۔
لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوسرے دن بھی ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن کے شور شرابے کے باعث اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔ آج حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب دیا جانا ہے، جبکہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی تقریر بھی متوقع ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔