
آئی اے این ایس
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بدھ کو اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل اور دیگر معاملات پر ہنگامہ آرائی کے بعد کارروائی ملتوی کر دی گئی۔ لوک سبھا میں اپوزیشن نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی عدم موجودگی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنایا، جس کے باعث ایوان میں شور شرابہ ہوا۔ بعد ازاں اسپیکر اوم برلا نے لوک سبھا کی کارروائی کل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی۔
ادھر راجیہ سبھا میں بھی کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔ اپوزیشن کے واک آؤٹ کے بعد کچھ دیر کارروائی جاری رہی، تاہم بعد میں راجیہ سبھا کی کارروائی بھی کل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل، 2026 پر دو روز تک جاری بحث کے بعد مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے حکومت کی جانب سے بحث کا جواب دیا۔ اس کے بعد اپوزیشن کے ہنگامے اور شور شرابے کے درمیان ایوان نے بل کو مجوزہ ترامیم کے ساتھ صوتی ووٹ کے ذریعے منظور کر لیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون امتحانات میں شفافیت بڑھانے اور پیپر لیک کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے اہم قدم ہے، جبکہ اپوزیشن نے بل پر اپنے اعتراضات برقرار رکھے۔
لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ طلبہ احتجاج کے معاملے میں صرف دو ہی امکانات ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’یا تو وزیر داخلہ کو معلوم تھا کہ گولیاں چلیں گی، یا انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی۔ اگر انہیں معلوم تھا تو وہ اس کے ذمہ دار ہیں، اور اگر معلوم نہیں تھا تو یہ ان کی نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ تیسرا کوئی امکان نہیں ہو سکتا۔‘‘
لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی جانب سے طلبہ پر گولی چلانے کے الزام کے بعد حکمراں اتحاد کے ارکان نے شدید احتجاج کیا اور مسلسل ہنگامہ آرائی کی۔ شور شرابے کے باعث راہل گاندھی اپنی تقریر جاری نہ رکھ سکے۔ ایوان میں بڑھتے ہوئے ہنگامے کے پیش نظر اسپیکر اوم برلا نے کارروائی دوپہر 2:30 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ حکومت کے ارکان نے راہل گاندھی کے الزامات پر سخت اعتراض درج کرایا، جس کے بعد ایوان کا ماحول خاصا کشیدہ ہو گیا۔
لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’اس ملک کے نام نہاد وزیر داخلہ میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ یہاں آ کر پارلیمنٹ میں بیٹھیں، وہ یہاں اس لیے موجود نہیں کیونکہ وہ ڈرے ہوئے ہیں۔‘‘ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک طالب علم پر گولی چلانے کا حکم دیا گیا تھا، اس بیان پر حکمراں اتحاد کے ارکان نے سخت اعتراض کیا، جس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ اور شور شرابہ شروع ہو گیا۔
لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تعلیمی نظام پر آر ایس ایس نے قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب خاندانوں کے بچوں سے تعلیم کے نام پر لاکھوں روپے وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ تعلیم کا مسلسل نجکاری کی طرف رخ کیا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اس کے باوجود بار بار پیپر لیک کے واقعات پیش آ رہے ہیں، جو انتہائی تشویشناک ہیں۔ ان کا الزام تھا کہ موجودہ تعلیمی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور اسی کے نتیجے میں ایسے مسائل بار بار سامنے آ رہے ہیں۔
لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طنزیہ ایک طالبہ سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’’طالبہ نے مجھ سے کہا کہ معاشرے میں تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں، طلبہ، ان سے علیحدہ گروپ کے اور ان کی پیروی کرنے والے۔‘ راہل گاندھی کے بیان میں شامل الفاظ پر حکمراں اتحاد کے ارکان نے سخت اعتراض کیا، جس کے باعث ایوان میں شور شرابہ شروع ہوگیا اور ان کی تقریر کے دوران دونوں جانب سے نعرے بازی اور ہنگامہ دیکھنے میں آیا۔
لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ملک کا مستقبل سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہوا اور نوجوانوں کا غصہ بالکل جائز ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی تحریک دراصل ملک کے نوجوانوں کے جذبات کی عکاس تھی اور ہر سیاسی جماعت، خصوصاً بی جے پی، کو اس جذبات کا احترام کرنا چاہیے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اگر بی جے پی کے ارکان اپنے ہی بچوں سے پوچھیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ طلبہ احتجاج کیوں کر رہے تھے اور نوجوان اس تحریک کی حمایت کیوں کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج میں شامل طلبہ، خاص طور پر طالبات، سے گفتگو کے بعد انہیں طلبہ کی سوچ کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع ملا۔ ان کے مطابق طلبہ وہ ہوتے ہیں جو کھلے ذہن اور عاجزی کے ساتھ علم حاصل کرتے ہیں، یہ مانتے ہیں کہ سیکھنے کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور ہمیشہ نئے علم کی گنجائش موجود رہتی ہے۔
لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل، 2026 پر جاری بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ایوان میں اپنی تقریر شروع کر دی ہے۔ وہ امتحانی نظام، پیپر لیک کے واقعات، طلبہ کے مسائل اور مجوزہ ترمیمی بل پر کانگریس کا مؤقف پیش کر رہے ہیں۔
راجیہ سبھا میں وقفۂ سوالات کے دوران کانگریس رکن پارلیمنٹ رینوکا چودھری نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی ایوان میں غیر موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’امت شاہ کہاں ہیں؟ انہیں ایوان میں بلایا جائے۔‘‘ اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی، جس کے باعث کارروائی متاثر ہوئی۔ شور شرابے کے پیش نظر چیئرمین نے راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر جاری بحث کے دوران حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب امتحانات جیسے اہم مسئلے پر بحث ہو رہی ہے تو نہ وزیراعظم ایوان میں موجود ہیں اور نہ ہی وزیر داخلہ۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسی بحث کا کیا فائدہ جس میں دونوں اہم ذمہ دار شخصیات ہی شریک نہ ہوں۔ گوگوئی نے کہا کہ اپوزیشن کی بنیادی مانگ ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اس معاملے پر جواب دیں، لیکن ان کی غیر موجودگی میں یہ کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت تعلیم اور امتحانی بے ضابطگیوں کے معاملے پر جواب دینے سے گریز کر رہی ہے، اسی لیے اپوزیشن نے وقفۂ سوالات کے دوران بھی یہ مسئلہ بھرپور انداز میں اٹھایا۔
کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے دہلی میں سی پی ایم کے دفتر پر پولیس کارروائی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی قومی سیاسی جماعت کے دفتر میں داخل ہو کر اس نوعیت کی کارروائی جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس کارروائی کا حکم دینے والوں کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس سے قبل سی پی ایم کے رکن پارلیمنٹ جان برٹاس نے بھی ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا تھا۔
لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں بھی اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث کارروائی متاثر ہوئی۔ قائم مقام چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے ایوان میں نظم و ضبط برقرار نہ رہنے پر کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔ اپوزیشن نے مختلف سیاسی اور پارلیمانی معاملات پر احتجاج کیا۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی سے متعلق اپنے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کوئی غیر پارلیمانی بات نہیں کہی بلکہ صرف سچ بیان کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر سچ بولنے پر مجھے سزا بھی دی جاتی ہے تو بھی میں سچ ہی بولوں گی۔‘‘ پرینکا گاندھی نے دعویٰ کیا کہ خواتین سے متعلق بعض واقعات اور ان سے جڑے افراد کے حوالے سے ان کے بیان کے حق میں شواہد موجود ہیں اور اسی تناظر میں انہوں نے اپنی بات ایوان میں رکھی تھی۔
لوک سبھا کی کارروائی شروع ہونے سے قبل سماجوادی پارٹی کے ارکان نے پارلیمنٹ احاطے میں احتجاج کیا۔ اس دوران ارکان نے ’چندہ چور، گدی چھوڑ‘ کے نعرے لگائے اور مرکزی حکومت کو مختلف معاملات پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ احتجاج کے بعد اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
لوک سبھا کی کارروائی بدھ کی صبح شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان نے مختلف مسائل پر ہنگامہ کیا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی معمول کے مطابق نہیں چل سکی۔ شور شرابے کے دوران اسپیکر نے کارروائی کو دوپہر 12 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ آج ایوان میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر دوسرے دن کی بحث دوبارہ شروع ہونے اور حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے سوالات کا جواب دیے جانے کا امکان ہے۔
لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوسرے دن بھی ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن کے شور شرابے کے باعث اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔ آج حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب دیا جانا ہے، جبکہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی تقریر بھی متوقع ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 29 Jul 2026, 12:05 PM IST