
کولکاتا: آسام میں این آرسی کی حتمی فہرست کی اشاعت کے بعد آسام سے متصل بنگال کے اضلاع کوچ بہار، جلپائی گوڑی اور علی پوردوار خوف و ہراس کا ماحول ہے۔
Published: 04 Sep 2019, 10:10 PM IST
این آر سی میں جن 19 لاکھ افراد کے نام شامل نہیں ہیں ان میں 11سے 12 لاکھ افراد ہندو ہیں۔ اس کے علاوہ دارجلنگ میں آباد گورکھا آبادی بھی این آر سی سے ناراض ہیں۔ چوں کہ آسام میں آباد ایک لاکھ گورکھاؤں کے نام این آرسی میں شامل نہیں ہیں۔
Published: 04 Sep 2019, 10:10 PM IST
آسام میں بنگالیوں کی فلاح وبہود کیلئے کام کرنے والی آرگنائزیشن ”بنگالی جنم مکتی باہنی کے چیرمین راجن سرکار نے کہا کہ ہم بنگالی ہندوؤں سے کہا گیا تھا کہ این آر سی سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔مگر آسام میں آباد بنگالی ہندؤں بڑی تعداد میں متاثر ہوگئے ہیں۔19لاکھ میں سے 12لاکھ بنگالی ہندو ہیں۔ہم جلد ہی ریاستی حکومت سے بات چیت کریں گے۔
Published: 04 Sep 2019, 10:10 PM IST
کوکراجھاڑ کے سیمولتا پور کے رہنے والے رابوبندرا سرکار نے کہاکہ وہ 7 ستمبر تک انتظار کریں گے۔ جس میں 21 لاکھ ناموں کا اندراج ہونے والا ہے۔ جلد ہی فارن ٹربیونل میں اپیل کی جائے گی۔ گورکھا جن مکتی مورچہ کلے صدر بمل گورنگ نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک لاکھ سے زاید گورکھا جو آسام میں رہتے تھے کے نام این آر سی میں شامل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم اس کی جانچ کررہی ہے۔دراجلنگ سے ممبر پارلیمنٹ راجو بستا نے کہا کہ ہم اس مسئلے کو اعلیٰ قیادت کے سامنے پیش کریں گے۔
Published: 04 Sep 2019, 10:10 PM IST
بنگال اسمبلی میں سی پی ایم کے ممبر اسمبلی سوجن چکرورتی نے این آر سی کے مسئلے کو اٹھایا تھا جس کی ترنمول کانگریس کے وزیر شوبھن چٹوپادھیائے نے حمایت کی۔
Published: 04 Sep 2019, 10:10 PM IST
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 04 Sep 2019, 10:10 PM IST