
فائل تصویر آئی اے این ایس
شہر میں پی ایم 2.5 کی سطح عالمی ادارہ صحت کی سالانہ ہدایات سے زیادہ آلودہ تصور کی جائے گی۔ آئی کیو ایئرکی درجہ بندی کے مطابق، 300 سے اوپر کی ریڈنگ خطرناک زمرے میں آتی ہے، جس سے صحت عامہ کے ممکنہ اثرات کے بارے میں خدشات بڑھتے ہیں۔ پی ایم 2.5 کی آلودگی صحت کے لیے خدشات کو جنم دیتی ہے۔ پی ایم 2.5 ذرات بہت باریک ذرات ہیں اور اپنے چھوٹے سائز کی وجہ سے یہ ذرات پھیپھڑوں کی گہرائی میں داخل ہو کر خون میں داخل ہو سکتے ہیں۔ طویل مدتی نمائش صحت کے سنگین مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔
آئی کیو ایئرشدید اسموگ کے دوران کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سفارش کرتا ہے۔ آئی کیو ایئر بیرونی جسمانی سرگرمیوں کو محدود کرنے، آلودہ ہوا کو سانس لینے سے روکنے کے لیے کھڑکیوں کو بند رکھنے، باہر نکلتے وقت ماسک پہننے اور گھر کے اندر ایئر پیوریفائر استعمال کرنے کی سفارش کرتا ہے۔ لاہور میں رواں سال اسموگ نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق، لاہور اور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دیگر حصوں میں اکتوبر اور فروری کے درمیان ہر سال اسموگ کا سامنا رہتا ہے۔ صوبے میں فضائی آلودگی میں اضافہ صحت عامہ اور ماحولیات کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ہندوستان کا دارالحکومت نئی دہلی دنیا کے آلودہ بڑے شہروں میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کا اےکیو آئی یعنی ایئر کوالٹی انڈیکس244 پر ریکارڈ کیا گیا، اسے "بہت غیر صحت بخش" زمرے میں رکھا گیا۔ ہندوستانی شہرممبئی اور کولکتہ میں بالترتیب 179 اور 172 ریکارڈ کیا گیا ہے ، اور انہیں "غیر صحت بخش" کے طور پر درجہ بندی کیا گیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔