قومی خبریں

جنتر منتر پہنچنے کی کوشش میں 7000 سے زیادہ افراد حراست میں لیے گئے، جین-زی نے کل پھر ’جنتر منتر مارچ‘ کا کیا اعلان

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اجنکیا شندے نے کہا کہ گیانیش کمار کے استعفیٰ کے بغیر یہ مظاہرہ ختم نہیں ہوگا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ اتوار کو ایک بار پھر نوجوان طبقہ جنتر منتر کی طرف قدم بڑھائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>جین-زی کو جبراً حراست میں لیتی ہوئی پولیس، تصویر قومی آواز/ویپن</p></div>

جین-زی کو جبراً حراست میں لیتی ہوئی پولیس، تصویر قومی آواز/ویپن

 

دہلی میں ہفتہ (10 اکتوبر) کے روز جین-زی کے احتجاجی مظاہرے جنتر منتر پر بھلے ہی نہیں ہوئے، لیکن دہلی میں درجنوں مقامات پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے بازی دیکھنے کو ملی۔ دہلی پولیس نے 4 سابق وزرائے اعلیٰ سمیت 7000 سے زیادہ سیاسی و سماجی ہستیوں اور طلبا و نوجوانوں کو حراست میں لے کر ظاہر کر دیا کہ بغیر اجازت جنتر منتر پر مظاہرہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ لیکن جین-زی طبقہ نے اعلان کر دیا ہے کہ گیانیش کمار کے استعفیٰ سے کم میں وہ ماننے والے نہیں ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔