قومی خبریں

بہار میں 45 لاکھ سے زائد افراد سیلاب سے متاثر ہیں، لیکن مرکز اور ریاستی حکومت اس سنگین بحران کو لے کر حساس نہیں: تیجسوی

تیجسوی نے کہا کہ ’’گجرات میں بارش کے بعد وزیر اعظم وزیر اعلیٰ سے بات کرتے ہیں، راحت اور امداد کا اعلان ہوتا ہے، لیکن بہار میں لاکھوں افراد متاثر ہونے کے باوجود ایسی سنجیدگی نہیں دکھائی جا رہی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو</p></div>

آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو

 

راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی ایگزیکٹو صدر اور بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے اتوار (13 ستمبر) کو سیلاب سمیت کئی مسائل کو لے کر مرکز اور ریاستی حکومت پر شدید حملہ بولا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بہار میں 45 لاکھ سے زائد افراد سیلاب سے متاثر ہیں، لیکن مرکز اور ریاستی حکومت اس سنگین بحران کو لے کر حساس نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈبل انجن والی حکومت کے دونوں انجنوں میں آگ لگی ہوئی ہے اور ریاستی حکومت کا خزانہ خالی ہے۔

پٹنہ میں پریس کانفرنس میں تیجسوی یادو نے کہا کہ سیلاب اور راگھوپور میں کٹاؤ سمیت کئی مسائل کو لے کر انہوں نے وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کو خط لکھا، لیکن کسی خط کا جواب تک نہیں ملا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت جواب دے یا نہ دے لیکن بہار کے عوام نے اگر اسے مینڈیٹ دیا ہے تو اسے عوام کے لیے کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق آر جے ڈی نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر بہار میں آئے سیلاب کو قومی آفت قرار دینے، خصوصی پیکیج دینے اور فوج، فضائیہ اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے راحت کا سامان پہنچانے کا مطالبہ کیا تھا۔

تیجسوی یادو نے الزام عائد کیا کہ اب تک مرکز کی جانب سے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے بہار سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزراء اور این ڈی اے کے اراکین پارلیمنٹ کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بہار میں این ڈی اے کے 30 سے زائد اراکین پارلیمنٹ اور کئی مرکزی وزراء ہیں، لیکن کوئی بھی مرکز سے بہار کے لیے خصوصی امداد نہیں لا پا رہا ہے۔ انہوں نے گجرات میں سیلاب اور شدید بارش کے دوران مرکز کی سرگرمی کا حوالہ دیتے ہوئے بہار کے ساتھ مبینہ امتیاز کا الزام عائد کیا۔ تیجسوی نے کہا کہ گجرات میں بارش کے بعد وزیر اعظم وزیر اعلیٰ سے بات کرتے ہیں، راحت اور امداد کا اعلان ہوتا ہے، لیکن بہار میں لاکھوں افراد متاثر ہونے کے باوجود ایسی سنجیدگی نہیں دکھائی جا رہی ہے۔

سابق نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 45 لاکھ سے زائد متاثرہ افراد کوئی معمولی تعداد نہیں ہے۔ آر جے ڈی لیڈر نے ریاستی حکومت پر مالی بدانتظامی کا بھی الزام عائد کیا۔ ان کے مطابق آفت سے عین قبل ہنگامی فنڈ سے تقریباً 4 ہزار کروڑ روپے نکال کر عام منصوبوں اور پنشن پر خرچ کیے گئے۔ تیجسوی نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار ہمیشہ کہتے تھے کہ سرکاری خزانے پر پہلا حق آفت سے متاثرہ افراد کا ہے، لیکن اب یہ اصول کہاں گیا۔

تیجسوی یادو کے مطابق اپوزیشن کا کام لوگوں کی تکلیف حکومت کے سامنے رکھنا ہے۔ آر جے ڈی کارکنان نے اپنی استطاعت کے مطابق راحت کا سامان تقسیم کیا ہے، لیکن بڑے پیمانے پر راحت اور بچاؤ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی علاقوں میں اب بھی پانی موجود ہے، لوگ بجلی کے بغیر رہ رہے ہیں اور راحت کے انتظامات کو لے کر شکایات مل رہی ہیں۔ تیجسوی نے امن و امان کے معاملے پر بھی حکومت کو گھیرا۔ انہوں نے آر جے ڈی کے ایک ضلعی نائب صدر کے قتل کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ حملے کے خدشے کو لے کر پولیس سے شکایت کرنے کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کی گئی اور کچھ دن بعد انہیں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

آر جے ڈی لیڈر نے الزام عائد کیا کہ عوامی نمائندوں اور عام لوگوں کی شکایات پر پولیس کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ تیجسوی نے کہا کہ بہار کے مسائل کا حل صرف بیان بازی سے نہیں ہوگا۔ حکومت کو سیلاب متاثرین کے لیے فوری راحت، مناسب وسائل اور مستقل حل کی سمت میں کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوام سب دیکھ رہی ہے اور آنے والے وقت میں وہ اس کا جواب دے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔