
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار
چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے اپوزیشن نے تیاری کر لی ہے۔ اپوزیشن کے 200 سے زائد اراکین پارلیمنٹ نے چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کے نوٹس پر دستخط کیے ہیں۔ اس نوٹس پر لوک سبھا کے 130 اور راجیہ سبھا کے 63 اراکین پارلیمنٹ نے دستخط کیے ہیں۔ قوانین کے مطابق کسی الیکشن کمشنر کو ہٹانے کے لیے کم از کم 100 اراکین پارلیمنٹ یا 50 راجیہ سبھا اراکین کے دستخط ضروری ہوتے ہیں۔ سی ای سی کو ہٹانے کی یہ تحریک جمعہ کو پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان میں پیش کی جا سکتی ہے۔
Published: undefined
رپورٹس کے مطابق اس نوٹس پر انڈیا اتحاد میں شامل تمام پارٹیوں نے دستخط کیے ہیں۔ اس کے علاوہ عام آدمی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے بھی دستخط کیے ہیں، حالانکہ پارٹی اب آفیشل طور پر اس اتحاد کا حصہ نہیں ہیں۔ دراصل یہ پہلی بار ہے جب چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کے لیے اس طرح کا نوٹس دیا گیا ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق نوٹس میں سی ای سی کے خلاف کئی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان میں اپنے عہدے پر رہتے ہوئے کسی ایک پارٹی کا ساتھ دینا، انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کو جان بوجھ کر روکنا اور ووٹر لسٹ میں گڑبڑی کرنا جیسے کئی الزامات شامل ہیں۔
Published: undefined
واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کو ہٹانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 124(5) اور آرٹیکل 124(4) میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمیشن کو ہٹانے کا طریقہ کار درج ہے۔ انہیں اسی طرح ہٹایا جا سکتا ہے جیسے سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کو ہٹایا جاتا ہے۔ انہیں صرف ملک کی پارلیمنٹ کے ذریعہ ہٹایا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ’خصوصی اکثریت‘ سے اس تحریک کا منظور ہونا ضروری ہے۔ اس کے لیے ایوان میں موجود اراکین کی 2 تہائی اکثریت ضروری ہوتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ مواخذہ صرف ثابت شدہ بدعنوانی یا نااہلی کی بنیاد پر ہی عمل میں لایا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined