قومی خبریں

برج بھوشن کی بریت پر اپوزیشن کا شدید ردعمل، پرینکا گاندھی نے کہا- ’حکومت کے قول و فعل میں ہے تضاد‘

دہلی کی راؤز ایونیو عدالت سے برج بھوشن شرن سنگھ کی بریت کے بعد اپوزیشن نے حکومت کو نشانہ بنایا۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے دعووں اور زمینی حقیقت میں واضح تضاد نظر آتا ہے

<div class="paragraphs"><p> پرینکا گاندھی (ویڈیو گریب)</p></div>

پرینکا گاندھی (ویڈیو گریب)

 

نئی دہلی: دہلی کی راؤز ایونیو عدالت کی جانب سے خاتون پہلوانوں کی جنسی ہراسانی کے مقدمے میں ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے صدر اور سابق بی جے پی رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کو بری کیے جانے کے بعد حزب اختلاف کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خاتون کھلاڑیوں کے تحفظ اور انصاف کے نظام پر سوالات اٹھائے۔

کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے عدالت کے فیصلے پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت نوجوانوں، خواتین کو بااختیار بنانے اور خواتین کے لیے ریزرویشن جیسے دعوے کرتی ہے، لیکن دوسری طرف ایسے معاملات میں جو پیغام سماج تک پہنچتا ہے، وہ انتہائی تشویشناک ہے۔

پرینکا گاندھی کے مطابق حکومت کے دعووں اور عملی اقدامات کے درمیان واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حساس معاملات میں صرف بیانات کافی نہیں ہوتے بلکہ خواتین کے اعتماد کو مضبوط کرنے کے لیے مؤثر اقدامات بھی ضروری ہیں۔

جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کی رکن پارلیمنٹ مہوا ماجھی نے بھی عدالت کے فیصلے پر محتاط ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدلیہ کا مکمل احترام کرتی ہیں اور عدالت کے فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں، تاہم اس فیصلے سے خاتون پہلوانوں اور سماج کے ایک بڑے طبقے میں مایوسی پیدا ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن خاتون پہلوانوں نے بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کیا، انہوں نے اپنی شکایات کے ازالے کے لیے طویل عرصے تک احتجاج، دھرنے اور بھوک ہڑتال کا سہارا لیا تھا۔ ایسے میں اس فیصلے کے بعد عوام کے ذہنوں میں تفتیش کے معیار اور جمع کیے گئے شواہد کے حوالے سے کئی سوالات پیدا ہونا فطری ہیں۔

مہوا ماجھی نے مزید کہا کہ بہت سی خواتین کو خدشہ ہے کہ اس فیصلے کے اثرات کھیلوں میں آگے بڑھنے والی نوجوان خاتون کھلاڑیوں پر پڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر متاثرہ خواتین کو انصاف ملنے کے امکانات کمزور محسوس ہوں تو مستقبل میں ہراسانی کے واقعات کی شکایت درج کرانے کا حوصلہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ راؤز ایونیو عدالت نے خاتون پہلوانوں کی جانب سے درج جنسی ہراسانی کے مقدمے میں برج بھوشن شرن سنگھ کو بری کر دیا ہے، جس کے بعد اس فیصلے پر سیاسی اور سماجی سطح پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ ایک طرف حکمراں جماعت اسے عدالتی عمل کی کامیابی قرار دے رہی ہے، جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس معاملے نے خواتین کے تحفظ، انصاف اور حکومتی دعووں کے درمیان موجود تضادات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔