قومی خبریں

کیجریوال اور سسودیا کی بریت پر اپوزیشن کا بی جے پی پر شدید حملہ، عدالتی فیصلے کا خیر مقدم

دہلی کے مبینہ شراب گھوٹالہ معاملے میں اروند کیجریوال اور منیش سسودیا کی بریت کے بعد اپوزیشن نے بی جے پی پر سخت تنقید کی ہے۔ مختلف رہنماؤں نے عدالتی فیصلے کو سچ کی جیت قرار دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>اروند کیجریوال / آئی اے این ایس</p></div>

اروند کیجریوال / آئی اے این ایس

 
IANS

نئی دہلی: دہلی کے مبینہ شراب گھوٹالہ معاملے میں راؤز ایونیو عدالت کی جانب سے عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال اور پارٹی رہنما منیش سسودیا کو بری کیے جانے کے بعد سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی پر سخت تنقید کی ہے۔

سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ آج سچ اور انصاف دونوں کیجریوال کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں الزام لگایا کہ بی جے پی نے دہلی کے عوام کے اعتماد کے ساتھ کھیل کھیلا ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی الزام اتنا بڑا نہیں ہو سکتا کہ وہ سچ کو چھپا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہر ایماندار شخص سکون کی سانس لے رہا ہے۔

Published: undefined

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جانچ ایجنسیوں کے من مانے رویے کی عکاسی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تحقیقاتی اداروں کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو سب سے زیادہ نقصان انصاف کو پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے پہلی نظر میں کوئی مضبوط معاملہ نہ ہونے کی بات کہی اور ٹھوس شواہد کی کمی کا ذکر کیا، اس کے باوجود برسوں قید میں رکھا گیا۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ مرکزی حکومت کو قلیل مدتی سیاسی فائدے کے لیے جانچ ایجنسیوں کی ساکھ کو داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔ انہوں نے کیجریوال اور سسودیا کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سچائی آخرکار سامنے آتی ہے۔

Published: undefined

کانگریس رہنما پون کھیڑا نے سوال اٹھایا کہ کیا مختلف ریاستی انتخابات کے دوران ہی اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں محض اتفاق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب عوام کے سامنے ہے اور سیاسی مقاصد کے لیے اداروں کے استعمال پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔

ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ساکیت گوکھلے نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کو بدنام کرنے کے لیے من گھڑت مقدمات قائم کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی جانچ بیورو اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو نے بھی کہا کہ اپوزیشن کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور انتخابی فائدے کے لیے اداروں کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق عدالت کی کارروائیوں نے کئی الزامات کی بنیاد کو کمزور کر دیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined