قومی خبریں

پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ بھگونت مان پر نشے کی حالت میں آنے کا الزام، اپوزیشن کا سخت ردعمل، حکومت کی تردید

پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان پر اپوزیشن نے اسمبلی میں نشے کی حالت میں آنے کا الزام لگایا، جس پر سیاسی تنازعہ بڑھ گیا۔ حکومت نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور اعتماد کا ووٹ حاصل کر گیا

<div class="paragraphs"><p>بھگونت مان، وزیر اعلیٰ پنجاب</p></div>

بھگونت مان، وزیر اعلیٰ پنجاب

 
تصویر آئی اے این ایس

پنجاب کی سیاست میں اس وقت ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے، جب وزیر اعلیٰ بھگونت مان پر اسمبلی اجلاس میں نشے کی حالت میں آنے کا الزام لگایا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ عام آدمی پارٹی نے ان الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد اور سیاسی قرار دیا ہے۔

راجیہ سبھا کی رکن سواتی مالیوال نے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ پنجاب اسمبلی میں نشے کی حالت میں موجود تھے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جمہوریت کے مقدس ایوان میں اس طرح کی حالت میں آنا انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی۔

Published: undefined

اسی دوران شرومنی اکالی دل نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ پارٹی نے کہا کہ یوم مزدور جیسے اہم موقع پر وزیر اعلیٰ کا اس طرح اسمبلی میں آنا انتہائی شرمناک ہے۔ اکالی دل نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ کا ڈوپ ٹیسٹ کرایا جائے تاکہ حقیقت سامنے آسکے اور عوام کو سچائی کا علم ہو۔

کانگریس لیڈر اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے رہنما پرتاپ سنگھ باجوا نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب خود وزیر اعلیٰ ہی نشے کی حالت میں ہوں تو اسمبلی اجلاس کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام متعلقہ افراد کا ٹیسٹ کرایا جائے تاکہ شفافیت قائم ہو سکے۔

Published: undefined

دوسری جانب عام آدمی پارٹی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپوزیشن پر سیاسی فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی کے ریاستی صدر اور کابینہ وزیر امن اروڑا نے کہا کہ حکومت نے مزدوروں کی خدمات کے اعتراف کے لیے خصوصی اجلاس بلایا تھا لیکن اپوزیشن غیر ضروری بیانات دے کر ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ الزامات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ ایوان کی وقار کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

اسی سیاسی ہنگامے کے درمیان پنجاب اسمبلی میں حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا اعتماد کا ووٹ متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق عام آدمی پارٹی کے زیادہ تر ارکان نے اس قرارداد کی حمایت کی، جبکہ کچھ ارکان غیر حاضر رہے یا دیگر وجوہات کی بنا پر شریک نہیں ہو سکے۔

Published: undefined

یہ اعتماد کا ووٹ اس پس منظر میں پیش کیا گیا تھا جب پارٹی کے چند راجیہ سبھا ارکان نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی تھی، جس کے بعد سیاسی صورتحال میں ہلچل پیدا ہو گئی تھی۔ حکومت نے اس اقدام کے ذریعے اپنی اکثریت ثابت کرنے کی کوشش کی۔

اعتماد کا ووٹ منظور ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے کہا کہ افواہوں کا بازار گرم ہے اور مخالفین منفی خبریں پھیلا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت مضبوط ہے اور اس طرح کے الزامات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined