قومی خبریں

سیاسی فائدے کے لیے ایس آئی آر کا استعمال کر رہی بی جے پی، اپوزیشن کا الزام

مہاراشٹر میں اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر کے دوران کروڑوں ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر انتخابی عمل کی شفافیت کو متاثر کرنے کا الزام عائد کیا

<div class="paragraphs"><p>الیکشن کمیشن</p></div>

الیکشن کمیشن

 

ممبئی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کی جانب سے مہاراشٹر اور مغربی بنگال کا حوالہ دیتے ہوئے خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) اور ’ووٹ چوری‘ کا معاملہ اٹھائے جانے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن کو نشانہ بنایا ہے۔ مہاراشٹر میں شیوسینا (یو بی ٹی)، کانگریس اور این سی پی (ایس پی) کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ ایس آئی آر کے عمل کو بی جے پی اپنے سیاسی مفاد اور انتخابی حکمت عملی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

این سی پی (ایس پی) کے رہنما کلائڈ کرسٹو نے دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر میں ایس آئی آر کے دوران دو کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل ووٹر فہرست میں بڑی تعداد میں نام شامل کیے گئے تھے تو اب اتنی بڑی تعداد میں نام کیسے حذف کر دیے گئے۔

کرسٹو کے مطابق مہاراشٹر کی ووٹر فہرست میں پہلے تقریباً نو کروڑ نام تھے، جو اب گھٹ کر تقریباً سات سے ساڑھے سات کروڑ رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 21 فیصد ناموں کا حذف ہونا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ ممبئی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہر میں بھی تقریباً 36 لاکھ افراد کے نام فہرست سے ہٹائے گئے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا کسی مخصوص طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے نام ووٹر فہرست سے حذف کیے جا رہے ہیں۔ کرسٹو نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی سے اس معاملے پر مہاراشٹر کے عوام کے سامنے وضاحت پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔

شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما امباداس داناوے نے دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر میں ایس آئی آر کے تحت دو کروڑ 38 لاکھ سے زیادہ نام حذف کیے گئے ہیں۔ مغربی بنگال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں بھی تقریباً 98 لاکھ افراد کے لیے اسی طرح کی کارروائی کی گئی تھی۔ مغربی بنگال سے متعلق معاملہ فی الحال عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

داناوے نے دعویٰ کیا کہ اگر مغربی بنگال میں ان 98 لاکھ افراد کے نام ووٹر فہرست سے حذف نہ کیے گئے ہوتے تو ریاست کے انتخابی نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔ ان کے مطابق بی جے پی مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر کے عمل کو اپنے سیاسی فائدے اور انتخابی حکمت عملی کے تحت استعمال کر رہی ہے۔

کانگریس کی رہنما ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ اگر ووٹر فہرست سے تقریباً دو کروڑ نام حذف کیے جانے کا دعویٰ درست ہے تو اس سے پہلے ہونے والے اسمبلی انتخابات اور بی ایم سی انتخابات کے عمل پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری آزاد اور منصفانہ انتخابات کرانا اور ہر اہل شہری کے حقِ رائے دہی کا تحفظ کرنا ہے۔

شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما اروند ساونت نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران ان کی پارٹی نے مبینہ ووٹوں کی دھاندلی کے حوالے سے سوال اٹھائے تھے، لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ووٹر فہرست سے نام حذف کرنے کے بعد انہیں دوبارہ کسی سیاسی فائدے کے لیے شامل کیا جاتا ہے تو اس سے انتخابی عمل کی غیر جانب داری اور شفافیت پر سنگین سوالات پیدا ہوں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔