
تصویر قومی آواز / وپن
ہر سال ملک بھر سے لاکھوں طلبہ دہلی یونیورسٹی (ڈی یو) میں داخلہ لینے کا خواب لے کر دہلی پہنچتے ہیں۔ جو طلبہ دوسرے شہروں سے آتے ہیں، انہیں یہاں رہنے کا انتظام بھی کرنا ہوتا ہے۔ ایسے میں طلبہ ہاسٹل کے متبادل کو بہتر مانتے ہیں۔ لیکن دہلی یونیورسٹی کے ہر کالج میں ہاسٹل کی سہولت نہیں ملتی، اور جہاں یہ سہولت ہے بھی وہاں اتنی سیٹیں نہیں ہیں۔ اس کا مطلب بالکل صاف ہے کہ ڈی یو میں ہر کسی کو ہاسٹل براہ راست نہیں ملتا ہے۔ اس کے پیچھے ایک طویل عمل، اہلیت اور بہت سے اصول شامل ہوتے ہیں۔ لیکن جن طلبہ کو ہاسٹل کی سہولت نہیں ملتی ہے وہ پی جی یا فلیٹ پر انحصار کرتے ہیں۔
فرض کر لیتے ہیں کہ ڈی یو میں 7 لاکھ طلبہ پڑھتے ہیں جن میں 50 فیصد یعنی تقریباً 3.5 لاکھ تو دوسری ریاستوں اور شہروں سے آئے ہوتے ہیں، جنہیں رہنے کے لیے ہاسٹل یا پی جی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن یونیورسٹی میں کمروں کی کافی کمی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان 3.5 لاکھ طلبہ کے لیے ڈی یو کے پاس صرف 7 ہزار سیٹیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ کالج کے پاس ہی پی جی یا فلیٹ کی تلاش کرتے ہیں۔ جنوبی دہلی کیمپس میں پڑھنے والے طلبہ کے لیے ستیہ نکیتن علاقہ پی جی کا گڑھ بن چکا ہے تو نارتھ کیمپس کے پاس مکھرجی نگر میں پی جی کی بھرمار ہو چکی ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق جولائی میں ڈی یو کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یونیورسٹی کے 18 مرکزی ہاسٹل ہیں، جو اب 20 ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کچھ کالجوں کے اپنے ہاسٹل ہیں، جن کی تعداد تقریباً 4 ہزار بتائی گئی تھی۔
واضح رہے کہ جنوبی دہلی کے ستیہ نکیتن میں 5 منزلہ عمارت کو منہدم ہوئے تقریباً 20 گھنٹے ہو چکے ہیں، لیکن ملبے میں زندگی کی تلاش اب بھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ حادثے میں اب تک 6 لوگوں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 11 لوگوں کو ملبے سے باہر نکالا گیا ہے۔ ایم سی ڈی نے حادثہ کا شکار ہونے والی عمارت سے متصل ایک بلڈنگ کو خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ ایم سی ڈی کے نوٹس میں ہاؤس نمبر 13 کا صاف طور پر ذکر ہے۔ نوٹس میں اس عمارت کو خستہ حال اور خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ اس میں رہنے والوں کو احاطہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ستیہ نکیتن حادثے کے بعد ایم سی ڈی نے 4 منزل سے زیادہ غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ عمارتوں کو فوری طور پر سیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ دہلی کے میئر پرویش واہی نے کہا کہ ’’ایسی عمارتوں کو بننے دینے والے افسران کی بھی ذمہ داری طے ہوگی۔ قصوروار پائے جانے والے افسران پر سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں فوری برطرفی بھی شامل ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔