
ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے خلاف این ایس یو آئی کا کفن اوڑھ کر احتجاج
نئی دہلی: ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والےاین ایس یو آئی کے کارکنان کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ احتجاج کرنے والے کارکنان نے سفید کفن باندھ کر خود کو علامتی طور پر ’مردہ‘ قرار دیا۔ این ایس یو آئی ہیڈکوارٹر سے کارکنان جنتر منتر کی جانب مارچ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ مظاہرین نے کہا کہ وہ حقیقی زندگی میں زندہ ہیں، لیکن ووٹر لسٹ میں نام نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کاغذات میں مردہ کر دیا گیا ہے۔ احتجاج کے دوران کارکنان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے فلک شگاف نعرے لگائے۔
این ایس یو آئی کارکنان نے ہیڈکوارٹر سے جنتر منتر کی جانب مارچ شروع کیا۔ جیسے ہی مظاہرین آگے بڑھے، دہلی پولیس نے راستے میں ڈبل لیئر بیریکیڈنگ لگا کر انہیں روک دیا۔ پولیس کی بھاری موجودگی کے درمیان مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکا گیا۔ پولیس کی جانب سے بار بار دفعہ 163 کے تحت پابندی عائد ہونے کی اطلاع دی جا رہی تھی۔ مظاہرین نے کہا کہ وہ اپنے مطالبات کے ساتھ جنتر منتر تک جانا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب پولیس نے انہیں مقررہ پابندیوں پر عمل کرنے اور آگے نہ بڑھنے کی ہدایت دیتے ہوئے روک دیا۔ دہلی پولیس نے جہاں کارکنان کو روکا، وہیں انہوں نے سفید چادر بچھا کر احتجاج شروع کر دیا۔
احتجاج کے دوران کئی کارکنان سفید کپڑا اوڑھ کر زمین پر لیٹ گئے اور خود کو علامتی طور پر مردہ قرار دیا۔ مظاہرین نے کہا کہ ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کا مطلب ان کے لیے صرف ایک نام کا ہٹایا جانا نہیں، بلکہ ووٹ دینے کے حق سے محروم ہونا ہے۔ کارکنان نے کہا کہ ان کا جسم اور شناخت حقیقت میں موجود ہے، لیکن اگر سرکاری ریکارڈ میں نام موجود نہیں ہے تو انتخابات کے دوران ووٹ دینے کا حق متاثر ہو جاتا ہے۔ اسی پیغام کو اجاگر کرنے کے لیے اس طرح کا احتجاج کیا جا رہا ہے۔
کارکنان نے کہا کہ نوجوانوں اور ووٹ دینے والے شہریوں کے ساتھ مبینہ طور پر ہونے والی ناانصافی کو ظاہر کرنے کے لیے یہ علامتی احتجاج کیا جا رہا ہے۔ نوجوان حقیقی طور پر زندہ ہیں، لیکن کاغذات میں انہیں مردہ دکھائے جانے جیسی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جب تک مطالبہ پورا نہیں ہوتا، نوجوان اسی طرح اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔
این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے احتجاج کے دوران ووٹر لسٹ اور انتخابی عمل کو لے کر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ہیں۔ یہ صرف ووٹر لسٹ کا معاملہ نہیں بلکہ جمہوریت اور آئین سے متعلق سوال ہے۔ انہوں نے گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مطالبہ پورا ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے مظاہرین کو روکنے کے لیے دہلی پولیس کی جانب سے کی جانے والی کارروائی پر بھی سوال اٹھائے۔ جاکھڑ نے کہا کہ پولیس مظاہرین کے جسم کو روک سکتی ہے، لیکن ان کے حوصلے اور آواز کو نہیں روک سکتی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔