
تصویر پریس ریلیز
رانچی: نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے رانچی میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ سے بدھ کو ملاقات کی اور ان کے مطالبات کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ این ایس یو آئی کے ایک وفد کے ہمراہ پہنچے ونود جاکھڑ نے احتجاجی طلبہ سے تفصیلی گفتگو کی، ان کے مسائل سنے اور کہا کہ ان کی تنظیم طلبہ کی جائز لڑائی میں ہر قدم پر ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
این ایس یو آئی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، وفد نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ کے مطالبات اور ان کی مشکلات کا جائزہ لیا۔ ونود جاکھڑ نے طلبہ کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل کو حکومت کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھایا جائے گا اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس اور این ایس یو آئی کا ایک مشترکہ وفد آج جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرے گا، جس میں طلبہ کے مطالبات کو پیش کیا جائے گا اور ان کے مسئلے کا منصفانہ اور بامعنی حل تلاش کرنے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
ونود جاکھڑ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ طلبہ کے خدشات اور مطالبات کو سنجیدگی سے سنا جائے گا اور اس سلسلے میں ایک مثبت اور منصفانہ فیصلہ سامنے آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم اور طلبہ کے مستقبل سے متعلق معاملات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور حکومت کو اس سمت میں مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس اور این ایس یو آئی ہر اس طالب علم کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے جو اپنے حقوق، شفافیت اور انصاف کے لیے آواز بلند کر رہا ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کے مسائل کا حل جمہوری طریقے سے نکالنا وقت کی ضرورت ہے اور نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
این ایس یو آئی نے اپنے بیان میں ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ تنظیم آئندہ بھی طلبہ کے حقوق کے تحفظ، تعلیمی نظام میں شفافیت اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔ تنظیم نے کہا کہ ملک بھر میں طلبہ سے متعلق مسائل کو مؤثر انداز میں اٹھانا اور ان کے مفادات کا تحفظ کرنا اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
تاہم، این ایس یو آئی کے جاری کردہ بیان میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات کی تفصیلات یا بھوک ہڑتال شروع ہونے کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ کے ساتھ مجوزہ ملاقات کب اور کہاں ہوگی یا اس میں کون کون شریک ہوگا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔