قومی خبریں

اب آپ کے لیے شیئر کی طرح سونے کی خریداری ہوئی ممکن، این ایس ای پر ’ای جی آر‘ ٹریڈنگ کا آغاز

بازار میں پہلے سے موجود گولڈ ای ٹی ایف کے مقابلے میں ای جی آر کا ماڈل کافی مختلف ہے۔ ای ٹی ایف بنیادی طور پر ایک میوچوئل فنڈ یونٹ کی طرح کام کرتا ہے، جو صرف سونے کی بازاری قیمتوں کو ٹریک کرتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

ہندوستانی سرمایہ کاروں کے لیے سونے میں سرمایہ کاری ہمیشہ سے ایک قابل اعتماد متبادل رہی ہے۔ لیکن فزیکل گولڈ خریدنے، اس کے خالص ہونے کی جانچ سے لے کر اسے محفوظ رکھنے کی فکر کئی بار سرمایہ کاروں کو پریشان کرتی ہے۔ اسی پریشانی کو ہمیشہ کے لیے دور کرنے کے مقصد سے نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ شیئر بازار میں الیکٹرانک گولڈ ریسیٹ (ای جی آر) سیگمنٹ کی لائیو ٹریڈنگ شروع ہو گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ شیئر بازار کے ذریعے کسی بھی کمپنی کے اسٹاک کی طرح اصلی سونے کی خرید و فروخت آسانی سے کر سکیں گے۔ اس سے پہلے ایکسچینج نے 16 مئی کو اس کا ماک ٹریڈنگ سیشن کیا تھا جو پوری طرح کامیاب رہا۔ اب لائیو سسٹم بھی بغیر کسی تکنیکی رکاوٹ کے ہموار طریقے سے کام کر رہا ہے۔

Published: undefined

ای جی آر دراصل سونے میں سرمایہ کاری کرنے کا ایک نہایت جدید ڈیجیٹل متبادل ہے۔ اس کے ذریعے کوئی بھی سرمایہ کار براہ راست اسٹاک ایکسچینج سے سونا خرید اور فروخت کر سکتا ہے۔ اس پلیٹ فارم پر 99.9 فیصد (999) سے لے کر 99.5 فیصد (995) تک خالص سونے میں ٹریڈنگ کی سہولت دی گئی ہے۔ یہاں دستیاب سونا پوری طرح ’فنجیبل‘ ہوتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو ہر بار کوالٹی چیک کرنے کی جھنجھٹ نہیں اٹھانی پڑے گی۔ مختلف مقدار (ڈینومینیشن) میں ٹریڈنگ کا متبادل ہونے کی وجہ سے چھوٹے ریٹیل سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ بڑے سرمایہ کار بھی اپنی صلاحیت کے مطابق بازار میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔

Published: undefined

بازار میں پہلے سے موجود گولڈ ای ٹی ایف کے مقابلے میں ای جی آر کا ماڈل کافی مختلف ہے۔ ای ٹی ایف بنیادی طور پر ایک میوچوئل فنڈ یونٹ کی طرح کام کرتا ہے، جو صرف سونے کی بازاری قیمتوں کو ٹریک کرتا ہے۔ اس میں آپ کو اصلی سونے کی ڈیلیوری کبھی نہیں ملتی۔ دوسری طرف، ای جی آر میں سرمایہ کاری کرنے پر آپ کو براہ راست محفوظ والٹ (تجوری) میں رکھے فزیکل گولڈ کی ملکیت حاصل ہو جاتی ہے۔ اگر آپ کو مستقبل میں جسمانی طور پر سونے کی ضرورت پڑتی ہے، تو آپ اپنی اس ڈیجیٹل ہولڈنگ کو آسانی سے فزیکل گولڈ بار میں تبدیل کروا سکتے ہیں۔

Published: undefined

اس پورے ٹریڈنگ نظام کو بازار کی ضابطہ ساز تنظیم سیبی کے ذریعے ریگولیٹ کیا جائے گا۔ اسے ’سیکورٹیز کانٹریکٹس ریگولیشن ایکٹ 1956‘ کے تحت سرکاری طور پر ’سیکورٹی‘ کا درجہ حاصل ہے۔ سرمایہ کاروں کی سیکورٹی یقینی بنانے کے لیے کئی ادارے مل کر کام کریں گے۔ ایکسچینج جہاں ٹریڈنگ پلیٹ فارم فراہم کرے گا، وہیں کلیئرنگ کارپوریشن خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان سودے اور رقم کا تصفیہ کرے گا۔ آپ کی ای جی آر رسیدیں ڈپازٹری کے پاس ڈی میٹ کھاتے میں پوری طرح محفوظ رہیں گی۔ اس کے علاوہ فزیکل سونے کو محفوظ رکھنے، جمع کرنے کے ساتھ ساتھ نکاسی کی پوری ذمہ داری والٹ مینیجر کی ہوگی۔

Published: undefined

ای جی آر کی ٹریڈنگ کا وقت پیر سے جمعہ تک صبح 9 بجے سے رات 11:30 یا 11:55 بجے تک مقرر کیا گیا ہے۔ وقت میں یہ معمولی تبدیلی امریکی ڈے لائٹ سیونگ کے حساب سے ہو سکتی ہے۔ شیئروں کی طرح ہی اس کا سیٹلمنٹ ’ٹی+1‘ اصول کی بنیاد پر ہوگا، یعنی جس دن ٹریڈ ہوگا اس کے اگلے کاروباری دن تصفیہ مکمل ہو جائے گا۔ اس سسٹم کا سب سے بڑا فائدہ ’ون نیشن، ون پرائس‘ کی شکل میں دیکھنے کو ملے گا۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں سونے کی قیمتوں میں جو فرق ہوتا ہے، وہ ایکسچینج پر مبنی شفاف ٹریڈنگ سے ختم ہو جائے گا۔ پورے ہندوستان میں سونے کی ایک ہی قیمت نافذ ہوگی۔ فی الحال احمد آباد، ممبئی کے علاوہ دہلی، کولکاتا، چنئی اور بنگلورو میں بھی والٹنگ سینٹر شروع کر دیے گئے ہیں۔ ایکسچینج جلد ہی پورے ملک میں ایسے تقریباً 120 سینٹرز کا وسیع نیٹورک تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined