قومی خبریں

اب ایک سال وکالت کرنے والے بھی بن سکیں گے جج، سپریم کورٹ نے سنایا اہم فیصلہ

چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے شرط عائد کی ہے کہ عدالتی سروس کے امتحان میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو ریاستی جوڈیشیل اکیڈمی میں ایک سال کی گہری تربیت حاصل کرنی ہوگی۔

سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
سپریم کورٹ / آئی اے این ایس 

عدالتی سروس میں داخلہ سے متعلق ایک اہم فیصلے میں سپریم کورٹ نے وکالت کی پریکٹس کو لازمی شرط بنائے رکھنے کے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم، عدالت نے ’بار‘ میں ضروری پریکٹس کی مدت 3 سال سے کم کر کے ایک سال کر دی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے ایک اور شرط عائد کی ہے۔ اس کے تحت عدالتی سروس کے امتحان میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو ریاستی جوڈیشیل اکیڈمی میں ایک سال کی گہری تربیت حاصل کرنی ہوگی۔ اس کے بعد 6 ماہ ضلعی جج/اعلیٰ تر عدالتی سروس کے افسر کے ساتھ کلرک شپ اور 6 ماہ کسی موجودہ ہائی کورٹ جج کے ساتھ کلرک شپ کرنی ہوگی۔

سپریم کورٹ نے عبوری مدت کے سلسلے میں بھی اہم رعایت دی ہے، جو 31 مارچ 2027 تک نافذ رہے گی۔ عدالت نے کہا کہ ’’ہدایت یہ ہے کہ 3 سال کی پریکٹس کی ضرورت کے باوجود تمام لاء کے فارغ التحصیل امیدوار درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔‘‘ بنچ نے مزید کہا کہ ’’اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے کہ نظرثانی کے تحت فیصلے سنائے جانے کے بعد ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ایسے امیدواروں کو درخواست دینے کے لیے ایک سال کی فعال پریکٹس مکمل کر لینے والا تصور کیا جائے گا اور انہیں اس مدت کے لیے پریکٹس کا سرٹیفکیٹ دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں کھلی عدالت میں ان نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی تھی، جن میں عدالتی سروس میں داخلے کے لیے کم از کم 3 سال کی قانونی پریکٹس لازمی کرنے والے اس کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ 3 سال کی پریکٹس کی شرط لاء کی تعلیم مکمل کرنے والے نوجوانوں کے لیے ایک خالی مدت پیدا کرتی ہے۔ اس سے باصلاحیت امیدوار لاء کی تعلیم مکمل کرنے کے فوراً بعد عدالتی سروس کو کیریئر کے متبادل کے طور پر منتخب کرنے سے حوصلہ شکنی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

سی جے آئی سوریہ کانت نے اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ ’’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پریکٹس اہم ہے، لیکن ہمیں نوجوان صلاحیتوں پر اس کے اثرات کو بھی دیکھنا ہوگا۔ ہم اسے اس طرح کیسے نافذ کریں کہ اس سے باصلاحیت امیدوار محروم نہ ہوں؟ آج لاء کی تعلیم مکمل کرنے والا نیا فارغ التحصیل امیدوار اہل نہیں ہے۔‘‘ خواتین امیدواروں کو درپیش سماجی حالات کو لے کر بھی سی جے آئی نے تشویش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس شرط کا اثر ان خواتین امیدواروں پر زیادہ پڑ سکتا ہے جو عدالتی افسر بننے کی تیاری کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’لڑکیاں واقعی پریشان ہیں۔ لڑکیاں ہماری صلاحیتوں کا سرمایہ ہیں۔ خاندان اور سماج کے دباؤ، شادی اور مقام کی تبدیلی جیسی صورت حال کے باعث بہت سی خواتین کے لیے ضروری برسوں کی پریکٹس مکمل نہ کر پانے کا خدشہ ہے۔‘‘

نظرثانی درخواستوں میں سپریم کورٹ کے مئی 2025 کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں ابتدائی سطح کے عدالتی عہدوں کے لیے وکیل کی حیثیت سے کم از کم 3 سال کی پریکٹس لازمی قرار دی گئی تھی۔ اس فیصلے میں 2002 سے پہلے کے نظام کو بحال کیا گیا تھا۔ عدالت نے مانا تھا کہ ٹرائل کورٹ کے ججوں میں صلاحیت اور پختگی یقینی بنانے کے لیے عدالت میں پہلے کا تجربہ ضروری ہے۔

ایک نظرثانی درخواست میں کہا گیا کہ فیصلے میں شیٹی کمیشن کی اہم سفارشات کو نظر انداز کیا گیا۔ کمیشن نے لازمی پریکٹس کی شرط ختم کرنے کی سفارش کی تھی۔ درخواست گزار کا استدلال تھا کہ لاء کی تعلیم کے نصاب میں عدالتوں کے دورے اور انٹرن شپ پہلے ہی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عدالتی افسر کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے مقررہ تربیت سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں 3 سال کی مقدمہ بازی کی لازمی شرط ضروری نہیں ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔