
حکومت نے آج اپنے ایک بیان میں واضح کر دیا ہے کہ اس کا ہوابازی ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) میں ایتھنول ملانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ پوری طرح سے غلط اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ حکومت کے پاس ایسی کوئی تجویز نہیں ہے۔
دراصل عآپ کے کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے دعویٰ کیا تھا کہ انھیں ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ حکومت اے ٹی ایف میں ایتھنول ملانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ کیجریوال نے یہ بھی کہا تھا کہ ماہرین کے مطابق اس کے خوفناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اس معاملہ میں شہری ہوابازی کے وزیر رام موہن نائیڈو نے ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’ایتھنول اور سسٹینیبل ایویشن فیول (ایس اے ایف) پوری طرح سے الگ الگ ہیں اور انھیں ایک دوسرے سے ملانا نہیں چاہیے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ایس اے ایف ایک بین الاقوامی سطح پر سرٹیفائیڈ ایویشن فیول ہے، جسے انٹرنیشنل سول ایویشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) نے منظوری دی ہے اور اسے دنیا بھر میں اپنایا گیا ہے۔ یہ سخت ٹیسٹ سے گزرتا ہے اور سیکورٹی کے سخت عالمی پیمانوں کو پورا کرتا ہے۔‘‘
رام موہن نائیڈو کا کہنا ہے کہ ہوائی سیکورٹی کے بارے میں غلط جانکاری پھیلانے سے ہوائی مسافروں میں بے وجہ کی فکر پیدا ہوتی ہے۔ مسافروں کی سیکورٹی حکومت کی اعلیٰ ترجیح ہے۔ حالانکہ کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک مضمون شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اے ٹی ایف میں ایتھنول اور دوسرے سنتھیٹک ہائیڈرو کاربن ملانے کی اجازت دی جا چکی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’آپ کی فلائٹ کا انجن درمیان میں ہی بند ہو سکتا ہے۔ کیا آپ ملاوٹی ایویشن فیول سے چل رہے طیارہ میں سفر کرنے کا جوکھم اٹھا سکتے ہیں!‘‘
قابل ذکر ہے کہ ایتھنول ملے پٹرول یعنی ای-20 معاملہ پر پہلے ہی بحث جاری ہے۔ کئی گاڑی مالکان ای-20 کی وجہ سے انجن خراب ہونے اور گاڑی کا مائلیج کم ہونے کی شکایت کر چکے ہیں۔ ای-20 کے خلاف سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے بھی ہو رہے ہیں اور اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران بھی مستقل آواز اٹھا رہے ہیں۔ اب اے ٹی ایف میں ایتھنول ملانے کے مبینہ منصوبوں نے ایک نئی بحث شروع کر دی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔