قومی خبریں

’بی جے پی کتنی بھی کوشش کر لے راہل گاندھی اور طلبا کو روک نہیں پائے گی‘، کوٹا مہاریلی سے قبل کانگریس کا بیان

کانگریس لیڈر راگنی نایک نے کہا کہ راہل گاندھی نے قائد حزب اختلاف ہونے کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے نوجوانوں کی آواز اٹھائی ہے۔ وہ ایسا کرنے والے تنہا لیڈر ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>

گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia

 

’’وقت آ گیا ہے جب ملک کے نوجوانوں کو اپنی طاقت حکومت کو دکھانی ہوگی اور سوتی ہوئی حکومت کو بیدار کرنا ہوگا۔ طلبا کی طاقت، ملک کی طاقت ہوتی ہے۔ نوجوان کسی بھی ملک کا مستقبل ہے۔ جب بھی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھی ہے تو وہ نوجوانوں کے درمیان سے پیدا ہوئی ہے۔ تاریخ گواہ ہے، جب بھی کسی ملک کا نام سنہری حروف میں لکھا گیا تو اس کی قلم نوجوانوں کے ہاتھوں میں رہی۔‘‘ یہ بیان کانگریس ترجمان اور سینئر لیڈر راگنی نایک نے آج ایک پریس کانفرنس میں دیا۔ یہ پریس کانفرنس راجستھان کے کوٹہ میں منعقد ہونے والی اس مہاریلی سے عین قبل کی گئی، جس کی قیادت لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کرنے والے ہیں۔ کوٹہ مہاریلی میں راہل گاندھی براہ راست طلبا سے مخاطب ہوتے نظر آئیں گے۔

Published: undefined

کانگریس نے مرکزی حکومت اور بی جے پی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس مہاریلی کو متاثر کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ راگنی نایک نے پریس کانفرنس میں اس تعلق سے کچھ اہم باتیں لوگوں کے سامنے رکھیں۔ لیکن ابتدا میں انھوں نے کہا کہ ’’آنے والا وقت یہ گواہی دے گا کہ جب مودی حکومت میں پیپر لیک اور بدعنوانی نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کر رہا تھا، تب جَن نایک راہل گاندھی نے نوجوانوں کے حق کی آواز بلند کی تھی۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’کوٹہ صرف ایک شہر نہیں ہے، لاکھوں طلبا کے خوابوں کی راجدھانی ہے۔ ایسے میں جیسے ہی مودی حکومت کو پتہ چلا کہ راہل گاندھی جی کوٹہ میں جین-زی سے ملاقات کرنے والے ہیں، تو برسراقتدار پارٹی میں افرا تفری مچ گئی، خوف کے مارے پسینے چھوٹ گئے۔ نتیجہ یہ رہا کہ بی جے پی حکومت نے اس پروگرام کو دبانے میں اپنی پوری طاقت لگا دی۔ کوٹہ میں راہل گاندھی کے ہورڈنگز-پوسٹرز کو ہٹایا جانے لگا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ’’کوچنگ سنٹرز کو ڈرانے دھمکانے کی کوششیں شروع ہو گئیں تاکہ طلبا کو راہل گاندھی سے ملاقات کرنے سے روکا جا سکے۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتی ہیں کہ ’’بی جے پی ڈری ہوئی ہے، ایک ناکارہ حکومت کے من میں یہ ڈر ہونا بھی چاہیے۔‘‘

Published: undefined

پریس کانفرنس کے دوران راگنی نایک نے آر ایس ایس کا ذکر کرتے ہوئے بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’مدھو لیمے کہتے تھے آر ایس ایس کا فل فارم ہے ’ریومرس اسپریڈنگ سوسائٹی‘ (افواہ پھیلانے والی سوسائٹی)۔ اسی طرح بی جے پی کا مقصد بھی یہی ہے... جھوٹ بولو، بار بار بولو اور زوردار بولو۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں کہ ’’اسی جھوٹ پھیلانے کے مقصد سے آج بھی ایک پریس کانفرنس کی گئی، جس میں صرف جھوٹ پیش کیا گیا۔ لیکن بی جے پی کتنی بھی کوشش کر لے، وہ راہل گاندھی اور طلبا کو روک نہیں پائے گی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’بی جے پی اور راجستھان حکومت چھٹ پٹاہٹ کے سبب ہی اقتدار کی پوری طاقت جھونک رہی ہے تاکہ ’چھاتروں کی گونج‘ روکی جا سکے۔ لیکن طلبا، جین-زی خود راہل گاندھی سے ملنے آ رہے ہیں، جسے دیکھ کر نریندر مودی کے من میں اپنی کرسی ڈولنے کی فکر پیدا ہو رہی ہے۔‘‘

Published: undefined

کانگریس کی خاتون لیڈر نے راہل گاندھی کو پہلے بھی مختلف مقامات پر جانے سے روکنے کی کوششوں کا تذکرہ میڈیا کے سامنے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی نے راہل گاندھی کو ہاتھرس جانے سے روکا، سنبھل میں متاثرین سے ملنے سے روکا، لکھیم پور کے کسانوں سے ملنے سے روکا، بہار میں امبیڈکر ہاسٹل جانے سے روکا، منی پور تشدد کے متاثرین سے ملنے سے روکا، اتنا ہی نہیں... جب این ایس یو آئی اور انڈین یوتھ کانگریس نے پیپر لیک اور سی بی ایس ای کے ’او ایس ایم‘ کی گڑبڑی کے خلاف آواز اٹھائی اور ملک بھر میں 50 سے زیادہ مظاہرے کیے تو بی جے پی حکومت نے اپنی پولیس سے لاٹھی چلوائی۔‘‘ وہ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’نریندر مودی یہ یاد رکھیں کہ جب بھی انھوں نے راہل گاندھی اور کانگریس کے ببر شیروں کو روکنے کی کوشش کی ہے، تب تب منھ کی کھائی ہے۔ راہل گاندھی نے اپوزیشن لیڈر ہونے کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے نوجوانوں کی آواز اٹھائی ہے۔ وہ ایسا کرنے والے تنہا لیڈر ہیں اور انھوں نے طلبا کے مسائل سننے کے لیے وفد سے بات کی۔‘‘

Published: undefined

راگنی نایک نے اس پورے معاملے میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو پوری طرح ذمہ دار ٹھہرایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’دھرمیندر پردھان نے اس پورے معاملے میں منھ چھپانے کے بجائے کچھ نہیں کیا۔ نریندر مودی خاموش رہے، اے بی وی پی اور بی جے پی یوتھ وِنگ نے کچھ نہیں کیا۔‘‘ وہ تلخ الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’نریندر مودی اور دھرمیندر پردھان نے ملک کے نوجوانوں کے ساتھ صرف دھوکہ کیا ہے، ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔‘‘

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined