
گنگا ندی میں افطار پارٹی کی علامتی تصویر، اے آئی
’’ہندوستان میں مختلف رائے رکھنے کے لیے عوامی مقامات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنے والے طلبا کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور انہیں ضمانت نہیں دی جا رہی ہے۔ جب انہیں ضمانت مل بھی جاتی ہے تو عدالتیں ایسی سخت شرائط عائد کرتی ہیں، جن سے ان کی آزادی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔‘‘ یہ باتیں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اُجول بھوئیاں نے ہفتہ کے روز کہیں۔ انہوں نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنی رائے کا اظہار کرنے اور پُرامن طریقے سے احتجاج کرنے کا حق شہریوں کی بنیادی آزادی ہے۔ بحث اور اختلافِ رائے جمہوریت کی جان ہیں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ معمول کی سرگرمیوں کو بھی جرم کے زمرے میں شامل کیا جا رہا ہے۔
جسٹس اُجول بھوئیاں کا کہنا ہے کہ جو لوگ ماحول کو پہنچنے والے نقصان پر اپنے دکھ کا اظہار کرنے آتے ہیں، انہیں ایسے بھگا دیا جاتا ہے جیسے وہ مجرم ہوں۔ کیمپس میں احتجاج کرنے والے طلبا کو گرفتار کر لیا جاتا ہے اور انہیں 30-40 دنوں تک ضمانت نہیں ملتی۔ انہیں معطل کر دیا جاتا ہے اور پھر انہیں عدالت کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس میں وقت لگتا ہے۔
گنگا ندی کے بیچ ایک کشتی پر افطار پارٹی کرنے والے نوجوانوں کے ایک گروپ کو ضمانت نہ دیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس بھوئیاں نے سوال کیا کہ کیا ایسی چیز کے لیے ضمانت سے انکار کیا جا سکتا ہے، جو کوئی جرم ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے یقین ہے کہ چکن بریانی کھانا کوئی جرم نہیں ہے۔ گنگا ندی پر چکن کھانے پر پابندی لگانے والا کوئی قانون نہیں ہے۔ انہیں اسی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں 3 ماہ تک جیل میں رہنا پڑا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’میں خود سے پوچھتا ہوں کہ کیا ایسی سرگرمی کے لیے لوگوں کو گرفتار کیا جا سکتا ہے اور 3 ماہ تک ضمانت دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے! شہری دیکھ رہے ہیں، لوگ دیکھ رہے ہیں۔‘‘
جسٹس اُجول بھوئیاں کے مطابق عدالتیں اب ضمانت کے لیے ایسی شرائط عائد کر رہی ہیں جو دراصل کسی شخص کو اپنی اختلاف رائے کا اظہار کرنے سے روکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ایک وزیر کے رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے فیس بک پر پوسٹ ڈالنے کے لیے، جس نے ہندوستانی فوج کے ایک افسر کو دہشت گرد کی بیٹی کہا تھا، ایف آئی آر درج کی جاتی ہے اور اسے پیشگی ضمانت لینی پڑتی ہے۔‘‘ وہ آگے بتاتے ہیں کہ ’’ضمانت مل جاتی ہے، لیکن عدالت کیا کرتی ہے؟ آپ سے اپنا پاسپورٹ جمع کرانے کے لیے کہتی ہے، حالاں کہ اس کے فرار ہونے کا کوئی خطرہ بھی نہیں ہے۔ پھر وہ کہتی ہے کہ فیس بک پر کچھ بھی پوسٹ نہ کریں۔‘‘
جسٹس بھوئیاں نے دہلی فسادات سے متعلق گل فشاں معاملے کے فیصلے کا بھی ذکر کیا، جس میں سپریم کورٹ نے ضمانت کے لیے سخت شرائط عائد کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ان نوجوان طلبا کارکنوں کا معاملہ دیکھیں، جنہیں طویل عرصے تک جیل میں رہنا پڑا۔ عدالت نے انہیں ضمانت تو دی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ نہ صرف اپنا پاسپورٹ جمع کرائیں بلکہ کسی بھی عوامی اجلاس میں حصہ نہ لیں اور نہ ہی اس سے خطاب کریں، خواہ وہ اجلاس بالمشافہ ہو یا ورچوئل طریقے سے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ایسی پابندیاں عائد کرنے سے ان کی بنیادی آزادی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ لوگ یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ کیا ایسے احکامات دے کر یا ایسی شرائط عائد کر کے عدالت یہ پیغام بھی دے رہی ہے کہ ایسی عوامی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیں؟‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔