قومی خبریں

’نتیش کمار نے کہا تھا کہ یو سی سی بہار میں نافذ نہیں ہوگا‘، امت شاہ کے بیان پر شیام رجک کا رد عمل آیا سامنے

شیام رجک نے کہا کہ یہ بل پارلیمنٹ میں آیا تھا، تو ہمارے لیڈر (نتیش کمار) نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ وہ بل کی حمایت کرتے ہیں، لیکن اپنی ریاست میں نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ ہم آج بھی اسی بات پر قائم ہیں۔

 شیام رجک، تصویر آئی اے این ایس
شیام رجک، تصویر آئی اے این ایس 

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے لوک سبھا انتخابات 2029 سے قبل ملک کی 21 بی جے پی-این ڈی اے اقتدار والی ریاستوں میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے والے بیان کے بعد سیاسی رد عمل کا سلسلہ جاری ہے۔ بی جے پی کی اتحادی جماعت جے ڈی یو کے لیڈر شیام رجک نے کہا ہے کہ یہ بل پارلیمنٹ میں آیا تھا، تو ہمارے لیڈر (نتیش کمار) نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ وہ بل کی حمایت تو کرتے ہیں، لیکن اسے اپنی ریاست میں نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ ہم آج بھی اپنی اسی بات پر قائم ہیں۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا یہ صرف ووٹ بینک کے لیے ہے۔ عمران مسعود نے مزید کہا کہ یو سی سی نافذ ہو یا نہ ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، یہ روایات سے وابستہ ملک ہے اور لوگ اپنی روایات پر عمل کریں گے۔ آپ مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل پر بات نہیں کریں گے، بلکہ ان مسائل پر گفتگو کریں گے، جس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ کانگریس لیڈر راشد علوی نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں سے بی جے پی مسلمانوں کے خلاف ہر کام کر رہی ہے، کیا یو سی سی سے اقتصادی حالات بہتر ہوں گے؟ کیا یو سی سی سے بے روزگاری ختم ہو جائے گی؟ کیا یو سی سی سے پٹرول اور ڈیژل کی قیمتیں کم ہوں گی؟ آپ اسے 21 ریاستوں میں نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یکساں سول کوڈ کا مطلب ہے کہ سول قانون میں یکسانیت۔ ابھی ہندوؤں، مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے علیحدہ علیحدہ پرسنل لاء ہے۔ آپ اس قانون کو 21 ریاستوں میں نافذ کرنے جا رہے ہیں، یہ بس مسلمانوں کے خلاف ضد ہے۔ بے روزگاری یا معاشی صورتحال بی جے پی لیڈران کی توجہ کا مرکز نہیں ہے۔ طلاق ثلاثہ، یکساں سول کوڈ، مسجد مندر، اور ہندو مسلمان ہی آپ کے ایجنڈے ہیں۔ بی جے پی نے اس ملک کو برباد کرنے کی ٹھان لی ہے۔ واضح رہے کہ امت شاہ نے ممبئی میں منعقدہ ایک پروگرام میں کہا تھا کہ کئی ریاستوں میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا مرحلہ آگے بڑھ چکا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔