قومی خبریں

عام انتخابات 1989:اتحادی جماعتوں کی حکومتوں کا آغاز

لوک سبھا کی 529 سیٹوں کے لئے ہوئے اس انتخاب میں آٹھ قومی پارٹیوں، 20 ریاستی سطح کی پارٹیوں، 35 رجسٹرڈ پارٹیوں کے علاوہ 3713 آزاد امیدواروں نے الیکشن لڑا تھا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

بوفورس گھوٹالے کے الزاموں کے سایہ میں سال 1989 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس نہ صرف کمزور ہوئی بلکہ ایک بار پھر اقتدار سے باہر ہو گئی تھی اور مرکز میں مختلف پارٹیوں کی اتحادی حکومت بننے اور اسے باہر سے حمایت دینے کی نئی روایت شروع ہوئی۔

اس انتخاب کے بعد ایک نئی سیاسی فارمولیشن تیار ہوئی جس میں وشوناتھ پرتاپ سنگھ کی قیادت میں مرکز میں اتحادی حکومت بنی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور بائیں بازو کی پارٹیوں نے اسے باہر سے حمایت دی، لیکن باہمی اختلاف کی وجہ سے یہ حکومت زیادہ دن نہیں چل سکی اور دو سال میں ہی لوک سبھا انتخابات کرانے پڑگئے۔

لوک سبھا کے نویں انتخابات میں کانگریس نے تقریباً 40 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے تاہم اسے 197 نشستیں ہی مل پائی تھیں، اس کو بہار میں گہرا جھٹکا لگا تھا جبکہ اتر پردیش میں وہ 15 سیٹوں پر سمٹ گئی تھی، مدھیہ پردیش، پنجاب، مغربی بنگال اور اڑیسہ میں بھی اس کی حالت اچھی نہیں رہی، اس الیکشن تک لوگوں میں سیاسی عزائم کافی بڑھ گئے تھے اور سیاسی پارٹیوں کی گویا ایک باڑھ سی آگئی تھی۔ گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں زیادہ تر علاقے میں بڑی تعداد میں امیدوار میدان میں اترے۔ ہریانہ کی ایک سیٹ پر تو 122 امیدوار انتخابات لڑے جس کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہو گئے تھے۔

لوک سبھا کی 529 سیٹوں کے لئے ہوئے اس انتخاب میں آٹھ قومی پارٹیوں، 20 ریاستی سطح کی پارٹیوں، 35 رجسٹرڈ پارٹیوں کے علاوہ 3713 آزاد امیدواروں نے الیکشن لڑا تھا، قومی پارٹیوں میں کانگریس، ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی، مارکسی کمیونسٹ پارٹی، بی جے پی، جنتا دل، جنتا پارٹی، لوک دل اور کانگریس (سرت چندر گروپ) شامل تھی۔ ریاستی سطح کی پارٹیوں میں انادرمک، ڈی ایم کے، فارورڈ بلاک، نیشنل کانفرنس، پینتھرز پارٹی، کیرل کانگریس، مهاراشٹروادي گومانتك پارٹی، مسلم لیگ، اکالی دل، آر ایس پی، تیلگو دیشم پارٹی اور کچھ دیگر پارٹیاں شامل تھیں۔

اس انتخاب میں 49 کروڑ 89 لاکھ سے زیادہ ووٹروں میں سے 61.95 فیصد نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ قومی پارٹیوں کے کل 1378 امیدواروں کو 79.33 فیصد ووٹ ملے تھے اور ان میں سے 471 امیدوار منتخب ہوئے ہوئے تھے، ریاستی سطح کی پارٹیوں نے 143 امیدوار اتارے تھے اور 9.28 فیصد ووٹ حاصل کیے اور 27 امیدوار منتخب کیے گئے تھے، رجسٹرڈ پارٹیوں نے 926 امیدوار لڑائے تھے جن میں سے 19 جیت گئے۔ اپنے دم خم پر الیکشن لڑنے والے3713 آزاد امیدواروں میں سے 12 جیتے۔

کانگریس نے 510، بی جے پی نے 225، سی پی آئی نے 50، سی پی ایم نے 64، جنتا دل نے 244، جنتا پارٹی نے 155، لوک دل نے 116 اور کانگریس (سرت چندر) نے 14 امیدوار انتخابی میدان میں اتارے تھے، کانگریس کو 39.53 فیصد ووٹ ملے تھے اور اس کے 197 امیدوار منتخب ہوئے ہوئے تھے جبکہ جنتا دل 17.79 فیصد ووٹ ملے تھے اور اس کے 143 امیدوار جیتے تھے، بی جے پی كو 11.36 فیصد ووٹ ملے تھے اور اس کے 85 امیدوار جیتے تھے۔ سی پی آئی کو 2.57 فیصد ووٹ ملے اور 12 امیدوار منتخب ہوئے تھے جبکہ سی پی ایم کو 6.55 فیصد ووٹ ملے تھے اور اس کے33 امیدوار منتخب ہوئے ہوئے تھے، حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جنتا پارٹی اور لوک دل (بی) کا کھاتا بھی نہیں کھل سکا تھا۔

کانگریس کو اتر پردیش میں 15، بہار میں چار، آندھرا پردیش میں 39، اروناچل میں دو، گوا میں ایک، گجرات میں تین، ہریانہ میں چار، ہماچل پردیش میں ایک، جموں و کشمیر میں دو، کرناٹک میں 27، کیرالہ میں 14، مدھیہ پردیش میں آٹھ، مہاراشٹر میں 28، دہلی، منی پور اور میگھالیہ میں دو - دو، اڑیسہ میں تین، پنجاب میں دو، تمل ناڈو میں 27، تری پورہ میں دو، مغربی بنگال میں چار، میزورم، ناگالینڈ، انڈومان نكوبار، لكش ديپ اور پانڈی چیری میں ایک - ایک سیٹ ملی تھی۔

Published: 31 Mar 2019, 9:10 PM IST

جنتا دل کو بہار میں 32، اترپردیش میں 54، گجرات میں 11، ہریانہ میں چھ، مدھیہ پردیش میں چار، مہاراشٹر میں پانچ، اڑیسہ میں 16، راجستھان میں 11، کرناٹک، پنجاب، چنڈی گڑھ اور دہلی میں ایک ایک نشست ملی تھی، بی جے پی کو بہار میں آٹھ، اتر پردیش میں آٹھ، گجرات میں 12، مہاراشٹر میں دس، راجستھان میں 13، دہلی میں چار، اور ہماچل پردیش میں تین سیٹیں ملی تھی۔

سی پی آئی کو بہار میں چار، مہاراشٹر، اڑیسہ اور تمل ناڈو میں ایک - ایک، اتر پردیش میں دو اور مغربی بنگال میں تین سیٹیں ملی تھی۔ مغربی بنگال میں عام لوگوں تک پہنچ برقرا رکھنے میں کامیاب رہی سی پی ایم 27 سیٹوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہی اور اس نے بہار، اڑیسہ، راجستھان اور اتر پردیش میں ایک- ایک اور کیرالہ میں دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

بہوجن سماج پارٹی کو اتر پردیش میں دو اور پنجاب میں ایک نشست ملی جبکہ جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے بہار میں تین سیٹ جیت لی تھیں، بہار میں آئی پی ایف کو بھی ایک سیٹ ملی، اکالی دل (ایم) کو پنجاب میں چھ سیٹ اور فارورڈز بلاک کو مغربی بنگال میں تین سیٹیں ملی۔ تمل ناڈو میں انادرمک 11 اور آندھرا پردیش میں تیلگو دیشم پارٹی کو دو سیٹیں ملی، اس کے ساتھ ہی کچھ دیگر پارٹیوں کو بھی کچھ جگہوں پر کامیابی ملی تھی، آزاد امیدوار مہاراشٹر اور پنجاب میں تین - تین سیٹ پر، اتر پردیش میں دو اور جموں کشمیر، مدھیہ پردیش، دادر ناگر حویلی اور دمن دیو میں ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کر سکے۔

اتر پردیش کے امیٹھی میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی جنتا دل کے امیدوار راج موہن شاستری سے تقریبا دو لاکھ ووٹوں کے فرق سے الیکشن جیتے تھے، انہیں 271407 اور راج موہن گاندھی کو 69269 ووٹ ملے تھے۔ بوفورس توپ گھوٹالے کو اجاگر کرنے اور کانگریس کی ناکامی کو بڑھ چڑھ کر اٹھانے والے وشوناتھ پرتاپ سنگھ نے جنتا دل کے امیدوار کی حیثیت سے فتح پور میں کانگریس کے ہری شنکر شاستری کو شکست دی تھی۔ سنگھ 245653 اور شاستری 124097 ووٹ ملے تھے۔

بلیا میں جنتا دل کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والےچندر شیکھر نے کانگریس کے جگن ناتھ چودھری کو تقریباً 90 ہزار ووٹوں سے شکست دی، باغپت میں جنتا دل کے اجیت سنگھ اور مظفر نگر میں اسی پارٹی کے مفتی محمد سعید منتخب ہوئے تھے، ان دونوں امیدواروں نے کانگریس امیدواروں کو شکست دی تھی، بجنور (ایس یو) سیٹ پر بی ایس پی کی مایاوتی نے جنتا دل کے منگل رام پریمی کو شکست دی تھی، بدایوں میں جنتا دل کے شرد یادو اور پیلی بھیت میں اسی پارٹی کے ٹکٹ پر مینکا گاندھی بھی منتخب ہوئی تھیں، بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے نئی دہلی سیٹ پر کانگریس کی موہنی گری کو شکست دی تھی۔ اڈوانی کو 129256 ووٹ اور موہنی گری کو 97415 ووٹ ملے تھے۔

بہار کے چھپرہ میں جنتا دل کے لالو پرساد یادو نے جنتا پارٹی کے امیدوار راجیو رنجن سنگھ کو شکست دی تھی یادو کو 333897 ووٹ اور سنگھ کو 192015 ووٹ ملے تھے، حاجی پور میں جنتا دل کے رام ولاس پاسوان نے کانگریس کے مہاویر پاسوان کو بری طرح شکست دی تھی، اس الیکشن میں رام ولاس پاسوان کو چھ لاکھ 15 ہزار سے زائد ووٹ ملے تھے جبکہ مہاویر پاسوان ایک لاکھ دس ہزار ووٹ ہی مل پائے تھے، باڑھ سیٹ پر جنتا دل کے ٹکٹ پر نوجوان لیڈر نتیش کمار اور کشن گنج سے کانگریس کے ٹکٹ پر صحافی ایم جے اکبر نے اپنے حریفوں کو شکست سے دوچار کیا تھا۔ سہسرام میں کانگریس کی میرا کمار کو جنتا دل کے چھیدی پاسوان کو شکست دی تھی، دمکا میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے شیبو سورین نے کانگریس کے پرتھوی چند كسكو کو شکست دی تھی۔

مدھیہ پردیش کی کھجوراہو سیٹ پر بی جے پی کی فائر برانڈ لیڈر اوما بھارتی نے کانگریس کی ودیاوتی چترویدی کو شکست دی تھی۔ اوما بھارتی کو 369699 ووٹ اور ودیاوتی چترویدی کو 176354 ووٹ ملے تھے۔ اندور میں بی جے پی کی ہی سمترا مہاجن نے کانگریس کی پرکاش چند سیٹھی کو شکست دی تھی۔ مہاجن 319123 اور مسٹر سیٹھی 207509 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ سماجوادی مفکرمدھو دنڈوتے نے مہاراشٹر کے راجاپور میں جنتا دل کے ٹکٹ پر کانگریس کے شورام راجے بھونسلے کو شکست دی تھی۔ بمبئی شمال میں بی جے پی کے رام نائک نے کانگریس کے چندركانت گوساليا کو شکست دی تھی۔

Published: 31 Mar 2019, 9:10 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 31 Mar 2019, 9:10 PM IST