
آئی اے این ایس
نئی دہلی: نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا نے فاسٹ ٹیگ سالانہ پاس کی فیس میں 75 روپے اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق اب صارفین کو سالانہ پاس کے لیے 3000 روپے کے بجائے 3075 روپے ادا کرنا ہوں گے۔ نئی فیس یکم اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔
اتھارٹی نے بتایا کہ فیس میں یہ تبدیلی مالی سال 2026-27 کے لیے کی گئی ہے اور یہ اقدام قومی شاہراہ فیس کے تعین اور وصولی سے متعلق 2008 کے قواعد کے مطابق کیا گیا ہے۔ وزارتِ سڑک نقل و حمل و شاہراہوں کے مطابق فیس میں معمولی اضافہ انتظامی اور آپریشنل اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
Published: undefined
فاسٹ ٹیگ سالانہ پاس حالیہ عرصے میں نجی گاڑی مالکان کے درمیان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں 56 لاکھ سے زیادہ صارفین اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ پاس ایسے غیر تجارتی نجی گاڑیوں کے لیے دستیاب ہے جن پر درست اور فعال فاسٹ ٹیگ نصب ہو۔
اس سہولت کے ذریعے صارفین ملک بھر کی قومی شاہراہوں اور ایکسپریس ویز پر واقع تقریباً 1150 ٹول پلازہ سے گزر سکتے ہیں۔ سالانہ پاس کی سب سے بڑی سہولت یہ ہے کہ اس کے حامل افراد کو بار بار ری چارج کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایک مرتبہ فیس ادا کرنے کے بعد یہ پاس ایک سال تک یا زیادہ سے زیادہ 200 ٹول پلازہ کراسنگ تک کارآمد رہتا ہے، جو بھی شرط پہلے پوری ہو جائے۔
Published: undefined
اتھارٹی کے مطابق اس سہولت کا مقصد خاص طور پر ان افراد کو آسانی فراہم کرنا ہے جو قومی شاہراہوں پر مسلسل سفر کرتے ہیں۔ سالانہ پاس کے ذریعے ٹول ادائیگی کا عمل تیز اور سہل ہو جاتا ہے جس سے وقت کی بچت بھی ہوتی ہے۔ ادائیگی مکمل ہونے کے بعد سالانہ پاس موجودہ فاسٹ ٹیگ سے منسلک گاڑی پر تقریباً دو گھنٹے کے اندر فعال ہو جاتا ہے۔ صارفین اس پاس کو راج مارگ یاترا ایپ یا نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے خرید یا اس کی تجدید کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ فاسٹ ٹیگ سالانہ پاس کا آغاز 15 اگست 2025 کو کیا گیا تھا۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اس پاس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اس بات کی علامت ہے کہ ملک میں قومی شاہراہوں پر باقاعدہ سفر کرنے والے افراد کے لیے یہ سہولت کافی کارآمد ثابت ہو رہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined