
علامتی تصویر / اے آئی
نئی دہلی: ملک کے مختلف حصوں میں پڑنے والی شدید گرمی اور مسلسل بڑھتے درجۂ حرارت پر نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے مرکزی حکومت اور متعدد ریاستی حکومتوں سے جواب طلب کیا ہے۔ ٹریبونل نے اس معاملے کو ایک سنگین ماحولیاتی اور عوامی صحت کے بحران سے تعبیر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کیے ہیں۔
Published: undefined
این جی ٹی نے 22 مئی کو شائع ہونے والی ایک میڈیا رپورٹ کا ازخود نوٹس لیا۔ اس کے بعد مرکزی حکومت کی کئی وزارتوں، مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ اور اتر پردیش، دہلی، راجستھان، گجرات، پنجاب، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، بہار، جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ سمیت کئی ریاستی حکومتوں کو فریق بنایا گیا ہے۔
ٹریبونل نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ ملک میں ہیٹ ویو اب محض موسمی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک بڑے ماحولیاتی اور صحت عامہ کے چیلنج کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ این جی ٹی نے محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اتر پردیش کے باندا ضلع میں درجۂ حرارت 48 ڈگری سیلسیس تک پہنچ چکا ہے، جبکہ دہلی سمیت کئی علاقوں میں بھی شدید گرمی کا سلسلہ جاری ہے۔
Published: undefined
این جی ٹی کے مطابق ہیٹ ویو کے اثرات صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ دیہی علاقوں کے لوگ بھی اس سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ شہری علاقوں میں تیزی سے بڑھتی تعمیرات، سبزہ زاروں کی کمی، گاڑیوں اور صنعتوں سے پیدا ہونے والی آلودگی اور بجلی کے بڑھتے استعمال نے گرمی کی شدت میں مزید اضافہ کیا ہے۔ دوسری جانب دیہی علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگ کھلے آسمان تلے طویل وقت تک کام کرنے پر مجبور ہیں، جہاں ٹھنڈک کی سہولتیں اور سرکاری امداد محدود ہے۔
ٹریبونل نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ این جی ٹی کا کہنا ہے کہ صرف عارضی انتظامات کافی نہیں ہوں گے بلکہ مختلف علاقوں کے مطابق موسمیاتی موافقت کے منصوبے، جدید موسمی پیش گوئی کا نظام، حرارتی نقشہ سازی، کھلے موسمیاتی اعداد و شمار اور اسکولوں و کالجوں کی سطح پر موسمی نگرانی جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔
Published: undefined
این جی ٹی نے یہ بھی کہا کہ بڑھتی گرمی کا براہ راست تعلق موسمیاتی تبدیلی اور انسانی سرگرمیوں سے ہے، جو ماحولیاتی تحفظ قانون 1986 کے تحت تشویش کا اہم موضوع ہے۔ ٹریبونل نے تمام متعلقہ وزارتوں، اداروں اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ حلف ناموں کے ذریعے اپنا جواب اور مجوزہ لائحۂ عمل پیش کریں۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 19 اگست کو مقرر کی گئی ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined