قومی خبریں

اتر پردیش میں تبدیلیٔ مذہب روکنے کی نئی کوشش، گورنر نے سبھی میڈیکل کالجوں میں خصوصی سیل بنانے کا دیا حکم

تمام میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تبدیلیٔ مذہب روکنے کے لیے خصوصی سیل تشکیل دیا جائے گا جو طلبا، ریزیڈنٹ ڈاکٹرز اور ملازمین کے درمیان بیداری مہم چلائے گا اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر نظر رکھے گا۔

<div class="paragraphs"><p>اتر پردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

اتر پردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل، تصویر آئی اے این ایس

 

اتر پردیش کے میڈیکل کالجوں میں مذہب تبدیلی کے مبینہ معاملات سامنے آنے کے بعد حکومت نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ریاست کے تمام طبی اداروں میں مذہب تبدیلی کو روکنے کے لیے خصوصی سیل تشکیل دینے کا حکم صادر کیا گیا ہے۔ اتر پردیش کی گورنر اور چانسلر آنندی بین پٹیل نے تمام میڈیکل کالجوں میں مذہب تبدیلی کی روک تھام کے سلسلے میں یہ اہم فیصلہ لیا ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ لکھنؤ واقع کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو) اور سنجے گاندھی پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایس جی پی جی آئی ایم ایس) میں حال ہی میں سامنے آنے والے مبینہ مذہب تبدیلی کے معاملات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے گورنر آنندی بین پٹیل نے یہ اہم قدم اٹھایا ہے۔ گورنر کے خصوصی فرائض کے افسر ڈاکٹر سدھیر ایم بوبڑے کے خط کی بنیاد پر اٹل بہاری واجپئی میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر امت دیوگن نے تمام منسلک میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کو فوری طور پر ’مذہب تبدیلی روک تھام سیل‘ تشکیل دینے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام کالجوں سے سیل کی تشکیل سے متعلق معلومات جلد فراہم کرنے کو بھی کہا ہے۔

Published: undefined

اس حکم کے بعد اب تمام میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں مذہب تبدیلی کو روکنے کے لیے خصوصی سیل تشکیل دیا جائے گا جو طلبا، ریزیڈنٹ ڈاکٹرز اور ملازمین کے درمیان بیداری مہم چلائے گا اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر نظر رکھے گا۔ اس سیل کا مقصد تعلیمی کیمپس میں محفوظ اور صحت مند ماحول کو یقینی بنانا، موصول ہونے والی شکایات پر فوری طور پر قواعد کے مطابق کارروائی کرنا اور ضوابط، حقوق و ذمہ داریوں سے متعلق معلومات فراہم کرنا ہوگا۔ گورنر کی ہدایت کے بعد ریاست بھر کے طبی اداروں میں نگرانی کے نظام کو مزید سخت کرنے کی تیاریاں تیز ہو گئی ہیں۔

Published: undefined

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں لکھنؤ کی کے جی ایم یو میں بھی ایک نوجوان خاتون کو مبینہ طور پر ’لو جہاد‘ کے جال میں پھانسنے اور مذہب تبدیلی کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ اس سلسلے میں شعبۂ پیتھالوجی کے ریزیڈنٹ ڈاکٹر رمیز کو گرفتار کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ ملزم نے پہلے شادی کا جھانسہ دے کر ایک ہندو نوجوان خاتون کو اپنے جال میں پھنسایا اور بعد میں اس پر مذہب تبدیل کرنے کا دباؤ ڈالا۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined