
مہاتما گاندھی کی برسی کے موقع پر کانگریس کے راجیہ سبھا رکن اور میڈیا انچارج جے رام رمیش نے 1948 میں لکھے گئے دو اہم تاریخی خطوط عوام کے سامنے پیش کیے ہیں۔ یہ خطوط اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور نائب وزیر اعظم سردار ولبھ بھائی پٹیل نے شاما پرساد مکھرجی کو ارسال کیے تھے۔ ان خطوط میں ہندو مہاسبھا اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی سرگرمیوں پر سخت تنقید کی گئی تھی اور انہیں ملک کے مفاد کے خلاف قرار دیا گیا تھا۔ جے رام رمیش نے یہ خطوط سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دستاویزات اس دور کی سیاسی اور سماجی فضا کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
Published: undefined
جے رام رمیش کے مطابق، جواہر لال نہرو نے مہاتما گاندھی کی شہادت سے صرف دو دن قبل شاما پرساد مکھرجی کو خط لکھا تھا، جبکہ سردار پٹیل نے 18 جولائی 1948 کو ایک علیحدہ خط کے ذریعے اپنے خدشات ظاہر کیے۔ نہرو نے اپنے خط میں الزام عائد کیا تھا کہ ہندو مہاسبھا نے پونے، احمد نگر اور دہلی میں حکومتی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اجلاس منعقد کیے۔ ان اجلاسوں میں کی گئی بعض تقاریر میں مہاتما گاندھی کو ملک کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا گیا اور ان کی جلد وفات کی باتیں کہی گئیں، جسے نہرو نے انتہائی قابل اعتراض اور خطرناک ذہنیت کی عکاسی بتایا۔
Published: undefined
نہرو نے اسی خط میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی سرگرمیوں کو اس سے بھی زیادہ سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس تنظیم سے متعلق ایسی اطلاعات موجود ہیں جو تشویش ناک ہیں اور جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی سرگرمیاں قومی اتحاد اور امن کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ دوسری جانب سردار ولبھ بھائی پٹیل نے اپنے خط میں واضح کیا تھا کہ ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس کی بعض کارروائیاں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں اور ان کا اثر براہ راست سماج کے امن پر پڑ رہا ہے۔
Published: undefined
جے رام رمیش نے ان خطوط کے ساتھ 30 جنوری 1948 کی رات آل انڈیا ریڈیو پر جواہر لال نہرو کے خطاب کا حوالہ بھی دیا، جو انہوں نے مہاتما گاندھی کی شہادت کے فوراً بعد قوم سے کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ تمام دستاویزات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ آزادی کے فوراً بعد ملک کو کن نظریاتی چیلنجوں کا سامنا تھا اور قومی قیادت انہیں کس نظر سے دیکھ رہی تھی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined