
راؤز ایونیو کورٹ / آئی اے این ایس
دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے نیٹ پیپر لیک معاملے کی ملزمہ پونے (مہاراشٹر) کی سینئر باٹنی ٹیچر منیشا گروناتھ مندھارے کو 14 دن کی سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ ہفتہ کے روز سی بی آئی نے اس معاملے کی کلیدی ملزم حیاتیات کی لیکچرر منیشا گروناتھ مندھارے کو وسیع پوچھ گچھ کے بعد دہلی سے گرفتارکیا تھا۔ وہ نیٹ یو جی 2026 کے پیپر لیک میں شامل تھی۔
Published: undefined
ملزم لیکچرر منیشا مندھارے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی نیٹ-یوجی پیپر-سیٹنگ کمیٹی کا حصہ تھی۔ تحقیقاتی ایجنسی نے اس پورے سنڈیکیٹ کے ماسٹر مائنڈ پروفیسر پی وی کلکرنی اور دیگر ملزمین سے پوچھ گچھ کی بنیاد پر منیشا کو گرفتار کیا تھا۔ افسران کے مطابق منیشا مندھارے کو این ٹی اے کی جانب سے ایک ماہر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے انہیں باٹنی اور زولوجی کے سوالناموں تک مکمل رسائی دی تھی۔
Published: undefined
الزام ہے کہ منیشا مندھارے نے اپریل 2026 میں امتحان سے پہلے پونے کی منیشا واگھمارے (جسے 14 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا) کے ذریعے امیدواروں کو اکٹھا کیا گیا اور اپنے پونے واقع رہائش گاہ پر ان کے لیے خفیہ کوچنگ کلاسز چلائیں۔ اس دوران مندھارے نے منتخب طلباء کو لیک ہونے والے سوالات اور ان کے جوابات لکھوائے جس کے عوض ان سے لاکھوں روپے وصول کیے تھے۔ یہ سوالات 3 مئی کو منعقد ہوئے امتحان میں مکمل طور پر صحیح جوابات سے مماثل تھے۔ اس سے قبل جمعہ کو لاتور سے کیمسٹری کے ماہر پروفیسر پی وی کلکرنی کو بھی گرفتار کیا تھا، جو برسوں سے نیٹ کا پیپر سیٹ کرنے والے پینل میں شامل تھے۔ کلکرنی نے بھی اپنے خصوصی اختیارات کا فائدہ اٹھاکر اپریل کے آخری ہفتے میں طلباء کو اپنے گھر بلا کر سوالات و جوابات یاد کرائے تھے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ سی بی آئی نے اس کے علاوہ بھی ملک بھر میں کئی مقامات پر چھاپے مارے تھے۔ اس کارروائی کے دوران متعدد مشتبہ دستاویزات، لیپ ٹاپ، بینک اسٹیٹمنٹس اور موبائل فون ضبط کیے گئے ہیں۔ قبضے میں لیے گئے مواد کا تفصیلی تجزیہ کیا جارہا ہے۔ اس سنسنی خیز معاملے میں اب تک 9 ملزمین کو دہلی، جے پور، گروگرام، ناسک، پونے اور اہلیہ نگر سے گرفتار کیا جاچکا ہے۔ غور طلب ہے کہ اس پیپر لیک معاملے کے بعد حکومت کو چوطرفہ تنقید کا نشانہ بناکر مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان سے استعفیٰ لینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس پیپر لیک کی وجہ سے ہزاروں طلبا کا مستقبل تاریک ہوگیا ہے جس کی ذمہ داری حکومت کو لینا چاہئے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined