
نئی دہلی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر کی ثالثی کے تعلق سے دیئے گئے بیان پر آج لوک سبھا میں زبردست ہنگامہ رہا اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے وزیر اعظم مودی سے اس بیان پر وضاحت پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔
Published: 24 Jul 2019, 9:10 PM IST
کانگریس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر مسئلے پر ثالثی کرنے کےبارے میں جو بیان دیا ہے اس سے پورا ملک فکر مند ہے اور ملک کے عوام وزیر اعظم نریندرمودی سے سچائی سننا چاہتے ہیں۔ اس لئے مودی کو اس مسئلے پر پارلیمنٹ میں وضاحت کرنی چاہیے۔
Published: 24 Jul 2019, 9:10 PM IST
لوک سبھا میں بدھ کو ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین نے اس مسئلے پر ہنگامہ شروع کردیا اور ایوان کے بیچ و بیچ آکر نعرے بازی اور ہنگامہ کرتے رہے۔اسپیکر اوم برلا نے شورو غل کے دوران ایوان کی کارروائی جاری رکھی اور ہنگامے کے درمیان وقفہ سوالات جاری رہا۔
Published: 24 Jul 2019, 9:10 PM IST
وقفہ صفر شروع ہوتے ہی ایون میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے یہ معاملہ اٹھانے کی اجازت دی تو ہنگامہ کرنے والے اراکین اپنی سیٹوں پر لوٹ گئے۔ چودھری نے کہا کہ صرف ملک ہی نہیں پوری دنیا یہ جاننا چاہتی ہے کہ ٹرمپ نے جو بات کہی ہے اس میں کتنی سچائی ہے۔ دو سب سے بڑی جمہوریتوں کے سربراہوں کے درمیان ہوئی بات چیت کی حقیقت دنیا کےسامنے آئے اس بارے میں پی ایم مودی کو وضاحت کرنی چاہیے اور انہیں بلا تاخیر ایوان میں آکر بیان دینا چاہیے۔
Published: 24 Jul 2019, 9:10 PM IST
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا ہمیشہ یہ ماننا رہا ہے کہ کشمیر مسئلے کا حل شملہ معاہدے کے تحت ہونا چاہئے۔ اس میں ہندوستان کسی تیسرے فریق کی مداخلت کا ہمیشہ مخالف رہا ہے اور آج بھی ہمارا یہی رخ ہے لیکن ٹرمپ نے کہا ہے کہ مودی نے ان سے اس مسئلے پر مداخلت کرنے کی بات کہی ہے۔ یہ سنجیدہ مسئلہ ہے اور وزیراعظم کو ایوان میں آکر اس بارے میں بیان دینا چاہیے۔
Published: 24 Jul 2019, 9:10 PM IST
کانگریس لیڈر نے کہا کہ وزیراعظم کو ایوان میں آکر بتانا چاہیے کہ ٹرمپ نے غلط بیانی سے کام لیا ہے۔صدر ٹرمپ سے انہوں نے کبھی اس طرح کی بات نہیں کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسر اقتدار پارٹی اپوزیشن کی بات نہیں سن رہی ہے اور اس کی آواز کو دبانا چاہتی ہے۔
Published: 24 Jul 2019, 9:10 PM IST
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 24 Jul 2019, 9:10 PM IST